آسان قرآن
Aasan Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 96
قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ﴿96﴾
- قَالَوہ بولا
- بَصُرْتُمیں نے دیکھا
- بِمَاوہ جو کہ
- لَمْ يَبْصُرُوْاانہوں نے نہ دیکھا
- بِهٖاس کو
- فَقَبَضْتُپس میں نے مٹھی بھرلی
- قَبْضَةًایک مٹھی
- مِّنْسے
- اَثَرِ الرَّسُوْلِفرشتہ کا نقش قدم
- فَنَبَذْتُهَاتو میں نے وہ ڈالدی
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- سَوَّلَتْپھسلایا
- لِيْمجھے
- نَفْسِيْمیرا نفس
Translation · Aasan Quran
وہ بولا : میں نے ایک ایسی چیز دیکھ لی تھی جو دوسروں کو نظر نہیں آئی تھی۔ اس لیے میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھالی، اور اسے (بچھڑے پر) ڈال دیا۔ (40) اور میرے دل نے مجھے کچھ ایسا ہی سمجھایا۔
Tafseer · Aasan Quran
40: رسول سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کے لشکر کے ساتھ تھے۔ عام طور سے مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ حضرت جبرئیل ؑ انسانی شکل میں ایک گھوڑے پر سوار تھے، اور سامری نے دیکھا کہ گھوڑے کا پاؤں جس جگہ پڑتا، وہاں زندگی کی کچھ آثار پیدا ہوجاتے تھے۔ سامری نے سمجھا کہ اس مٹی میں جو زندگی کے آثار پیدا ہورہے ہیں، ان سے یہ کام بھی لیا جاسکتا ہے کہ کسی بےجان چیز پر ڈالنے سے اس میں زندگی کے کچھ خصوصیات پیدا ہوجائیں، چنانچہ اس نے ایک مٹھی اس مٹی کی لے کر بچھڑے پر ڈال دی جس سے آواز نکلنے لگی۔ لیکن بعض مفسرین مثلاً حضرت مولانا حقانی نے تفسیر حقانی جلد 3 ص 272، 273 میں فرمایا ہے کہ یہ سامری کی طرف سے ایک جھوٹا بہانہ تھا، ورنہ بچھڑے میں آواز خلا میں ہوا کے گذرنے سے نکلتی تھی، چونکہ قرآن کریم نے نہ کوئی تفصیل خود بیان فرمائی، نہ کسی مضبوط حدیث سے ثابت ہے، اور نہ کوئی دینی ضرورت اس کے جاننے پر موقوف ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس تفصیل کو اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کیا جائے۔