Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 21. Al-Anbiyaa · Ayah 79

  1. فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ﴿79﴾

    1. فَفَهَّمْنٰهَاپس ہم نے اس کو فہم دی
    2. سُلَيْمٰنَسلیمان
    3. وَكُلًّااور ہر ایک
    4. اٰتَيْنَاہم نے دیا
    5. حُكْمًاحکم
    6. وَّعِلْمًااور علم
    7. وَّسَخَّرْنَااور ہم نے مسخر کردیا
    8. مَعَساتھ۔ کا
    9. دَاوٗدَداود
    10. الْجِبَالَپہار (جمع)
    11. يُسَبِّحْنَوہ تسبیح کرتے تھے
    12. وَالطَّيْرَاور پرندے
    13. وَكُنَّااور ہم تھے
    14. فٰعِلِيْنَکرنے والے
Translation · Aasan Quran
چنانچہ اس فیصلے کی سمجھ ہم نے سلیمان کو دے دی، اور (ویسے) ہم نے دونوں ہی کو حکمت اور علم عطا کیا تھا۔ (32) اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو تابع دار بنادیا تھا کہ وہ پرندوں کو ساتھ لے کر تسبیح کریں۔ (33) اور یہ سارے کام کرنے والے ہم تھے۔
Tafseer · Aasan Quran
32: چونکہ حضرت داؤد ؑ کا فیصلہ اصل قانون کے مطابق تھا۔ اور حضرت سلیمان ؑ کی تجویز باہمی رضامندی سے ایک صلح کی صورت تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں کے بارے میں یہ فرمایا کہ ہم نے علم اور حکمت دونوں کو عطا کی تھی، لیکن مصالحت کی جو صورت حضرت سلیمان ؑ نے تجویز کی اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کی سمجھ انہیں ہم نے عطا فرمائی تھی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مقدمے کے دوران قانونی فیصلہ حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ فریقین آپس کی رضا مندی سے مصالحت کی 33: اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کو بہت دلکش آواز عطا فرمائی تھی، اور معجزے کے طور پر یہ خصوصیت بخشی تھی کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ ذکر اور تسبیح میں شریک ہوتے تھے، اور اڑتے ہوئے پرندے بھی رک جاتے، اور وہ بھی ذکر کرنے لگتے تھے۔