آسان قرآن
Aasan Quran · 24. An-Noor · Ayah 33
وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿33﴾
- وَلْيَسْتَعْفِفِاور چاہیے کہ بچے رہیں
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- لَا يَجِدُوْنَنہیں پاتے
- نِكَاحًانکاح
- حَتّٰىیہانتک کہ
- يُغْنِيَهُمُانہیں گنی کردے
- اللّٰهُاللہ
- مِنْ فَضْلِهٖاپنے فضل سے
- وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
- يَبْتَغُوْنَچاہتے ہوں
- الْكِتٰبَمکاتبت
- مِمَّاان میں سے جو
- مَلَكَتْمالک ہوں
- اَيْمَانُكُمْتمہارے دائیں ہاتھ (غلام)
- فَكَاتِبُوْهُمْتو تم ان سے مکاتبت ( آزادی کی تحریر) کرلو
- اِنْ عَلِمْتُمْاگر تم جانو (پاؤ)
- فِيْهِمْان میں
- خَيْرًابہتری
- وَّاٰتُوْهُمْاور تم ان کو دو
- مِّنْسے
- مَّالِ اللّٰهِاللہ کا مال
- الَّذِيْٓ اٰتٰىكُمْجو اس نے تمہیں دیا
- وَلَا تُكْرِهُوْااور تم نہ مجبور کرو
- فَتَيٰتِكُمْاپنی کنیزیں
- عَلَي الْبِغَآءِبدکاری پر
- اِنْ اَرَدْنَاگر وہ چاہیں
- تَحَصُّنًاپاکدامن رہنا
- لِّتَبْتَغُوْاتاکہ تم حاصل کرلو
- عَرَضَسامان
- الْحَيٰوةِزندگی
- الدُّنْيَادنیا
- وَمَنْاور جو
- يُّكْرِھْهُّنَّانہیوں مجبور کرے گا
- فَاِنَّتو بیشک
- اللّٰهَاللہ
- مِنْۢ بَعْدِبعد
- اِكْرَاهِهِنَّان کے مجبوری
- غَفُوْرٌبخشنے والا
- رَّحِيْمٌنہایت مہربان
Translation · Aasan Quran
اور جن لوگوں کو نکاح کے مواقع میسر نہ ہوں، وہ پاک دامنی کے ساتھ رہیں، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے انہیں بےنیاز کردے۔ اور تمہاری ملکیت کے غلام باندیوں میں سے جو مکاتبت کا معاہدہ کرنا چاہیں، اگر ان میں بھلائی دیکھو تو ان سے مکاتبت کا معاہدہ کرلیا کرو (26) اور (مسلمانو) اللہ نے تمہیں جو مال دے رکھا ہے اس میں سے ایسے غلام باندیوں کو بھی دیا کرو، اور اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں، (27) اور جو کوئی انہیں مجبور کرے گا تو ان کو مجبور کرنے کے بعد اللہ (ان باندیوں کو) بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (28)
Tafseer · Aasan Quran
26: جب غلاموں اور باندیوں کا رواج تھا، اس وقت وہ اپنے آقاؤں سے یہ معاملہ کرلیتے تھے کہ وہ ایک طے شدہ رقم کما کر اپنے آقاؤں کو دیں گے جس کے بعد وہ آزاد ہوجائیں گے۔ یہ معاملہ مکاتبت کہلاتا ہے۔ اس آیت نے آقاؤں کو یہ ترغیب دی ہے کہ جب ان کے غلام یا باندیاں ان سے یہ معاملہ کرنا چاہیں تو انہیں قبول کرلینا چاہیے، اور دوسرے مسلمانوں کو یہ ترغیب دی ہے کہ وہ ایسے غلاموں اور باندیوں کی مالی مدد کریں، تاکہ وہ آزادی حاصل کرسکیں۔
27 جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ لوگ اپنی کنیزوں سے عصمت فروشی کراتے، اور اس طرح ان کو بدکاری پر مجبور کر کے پیشہ کماتے تھے۔ اس آیت نے اس گھناؤنی رسم کو شدید گناہ قرار دے کر اسے ختم کیا۔
28: یعنی جس کنیز کو اس کی مرضی کے خلاف بدکاری پر مجبور کیا گیا، اس کو مجبور ہونے کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں ہوگا، بشرطیکہ اس نے بدکاری سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی ہو، نیز اسے بدکاری کی شرعی سزا بھی نہیں دی جائے گی، البتہ بدکاری کی سزا اس کو ملے گی، جس نے اس سے بدکاری کی، نیز اس آقا کو بھی تعزیری سزا ہوگی جس نے اسے عصمت فروشی پر مجبور کیا۔