Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 24. An-Noor · Ayah 40

  1. اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ع﴿40﴾

    1. اَوْ كَظُلُمٰتٍیا جیسے اندھیرے
    2. فِيْ بَحْرٍدریا میں
    3. لُّجِّيٍّگہرا پانی
    4. يَّغْشٰىهُاسے ڈھانپ لیتی ہے
    5. مَوْجٌموج
    6. مِّنْ فَوْقِهٖاس کے اوپر سے
    7. مَوْجٌایک (دوسری) موج
    8. مِّنْ فَوْقِهٖاس کے اوپر سے
    9. سَحَابٌبادل
    10. ظُلُمٰتٌاندھیرے
    11. بَعْضُهَااس کے بعض (ایک)
    12. فَوْقَ بَعْضٍبعض (دوسرے) کے اوپر
    13. اِذَآجب
    14. اَخْرَجَوہ نکالے
    15. يَدَهٗاپنا ہاتھ
    16. لَمْ يَكَدْنزدیک نہیں (توقع نہیں)
    17. يَرٰىهَاتو وہ اسے دیکھے
    18. وَمَنْاور جسے
    19. لَّمْ يَجْعَلِنہ بنائے (نہ دے)
    20. اللّٰهُاللہ
    21. لَهٗاس کے لیے
    22. نُوْرًانور
    23. فَمَا لَهٗتو نہیں اس کے لیے
    24. مِنْ نُّوْرٍکوئی نور
Translation · Aasan Quran
یا پھر ان (اعمال) کی مثال ایسی ہے جیسے کسی گہرے سمندر میں پھیلے ہوئے اندھیرے، کہ سمندر کو ایک موج نے ڈھانپ رکھا ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، اور اس کے اوپر بادل، غرض اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیرے۔ اگر کوئی اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ پائے۔ (37) اور جس شخص کو اللہ ہی نور عطا نہ کرے، اس کے نصیب میں کوئی نور نہیں۔
Tafseer · Aasan Quran
37: یہ ان کافروں کی مثال ہے جو آخرت کو سرے سے مانتے ہی نہیں، اس لیے ان کے پاس اتنا نور بھی نہیں جتنا پہلے گروہ کے پاس تھا کہ کم از کم وہ یہ امید رکھتے تھے کہ ان کے اعمال انہیں آخرت میں فائدہ پہنچائیں گے، لیکن ان لوگوں کے پاس امید کی یہ کرن بھی نہیں ہے۔ اور بعض مفسرین نے دونوں مثالوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کافروں کے اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو وہ نیکی سمجھ کر کرتے ہیں، اور ان سے فائدے کی امید رکھتے ہیں، ان کی مثال تو سراب جیسی ہے، اور ایک وہ اعمال ہیں جو وہ نیکی سمجھ کر نہیں کرتے، ان کی مثال ان اندھیروں کی ہے جن میں روشنی کی کوئی کرن نہیں ہوتی۔ پھر سمندر کی تہہ کا اندھیرا ان کے کافرانہ عقائد کی مثال ہے، اور ایک موج کا اندھیرا ان کے برے اعمال کی مثال ہے، اور دوسری موج کا اندھیرا ان کی ہٹ دھرمی کی مثال ہے، اس طرح ان میں اوپر تلے بہت سے اندھیرے جمع ہوگئے ہیں۔ ایسے سخت اندھیرے میں جس طرح انسان کو اپنا ہاتھ بھی نظر نہیں آتا، اسی طرح کفر اور فسق کے اندھیروں میں ان لوگوں کو خود اپنی حقیقت بھی سمجھ میں نہیں آتی۔