Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 24. An-Noor · Ayah 39

  1. وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ﴿39﴾

    1. وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓااور جن لوگوں نے کفر کیا
    2. اَعْمَالُهُمْان کے عمل
    3. كَسَرَابٍسراب کی طرح
    4. بِقِيْعَةٍچٹیل میدان میں
    5. يَّحْسَبُهُگمان کرتا ہے
    6. الظَّمْاٰنُپیاسا
    7. مَآءًپانی
    8. حَتّيٰٓیہانتک کہ
    9. اِذَا جَآءَهٗجب وہ وہاں آتا ہے
    10. لَمْ يَجِدْهُاس کو نہیں پاتا
    11. شَيْئًاکچھ بھی
    12. وَّ وَجَدَاور اس نے پایا
    13. اللّٰهَاللہ
    14. عِنْدَهٗاپنے پاس
    15. فَوَفّٰىهُتو اس (اللہ) نے اسے پورا کردیا
    16. حِسَابَهٗاس کا حساب
    17. وَاللّٰهُاور اللہ
    18. سَرِيْعُ الْحِسَابِجلد حساب کرنے والا
Translation · Aasan Quran
اور (دوسری طرف) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹیل صحرا میں ایک سراب ہو جسے پیاسا آدمی پانی سمجھ بیٹھتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا (35) اور اس کے پاس اللہ کو پاتا ہے، چنانچہ اللہ اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔ (36) اور اللہ بہت جلدی حساب لے لیتا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
35: ریگستان میں جو ریت چمکتا نظر آتا ہے، دور سے وہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ پاپنی ہو، اسے ”سراب“ کہتے ہیں۔ جس طرح سفر کرتے ہوئے آدمیوں کو سراب دھوکا دیتا ہے کہ وہ اسے پانی سمجھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ کچھ بھی نہیں ہوتا، اسی طرح کافر لوگ جو عبادت نیکی سمجھ کر کرتے ہیں، وہ سراب کی طرح ایک دھوکا ہے۔ 36: یہ مثال ان کافروں کی ہے جو آخرت کو مانتے ہیں، لیکن توحید اور رسالت کے منکر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن اعمال کے بارے میں یہ کافر لوگ سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ ان کو آخرت میں فائدہ پہنچائیں گے، مرنے کے بعد انہیں اندازہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا پورا پورا حساب دنیا میں چکا کر انہٰیں سزا کا مستحق قرار دیا ہے، اور اس طرح ان سارے کاموں نے فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے۔