Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 23

  1. وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ﴿23﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. وَرَدَوہ آیا
    3. مَآءَپانی
    4. مَدْيَنَمدین
    5. وَجَدَاس نے پایا
    6. عَلَيْهِاس پر
    7. اُمَّةًایک گروہ
    8. مِّنَسے۔ کا
    9. النَّاسِلوگ
    10. يَسْقُوْنَپانی پلا رہے ہیں
    11. وَوَجَدَاور اس نے پایا (دیکھا
    12. مِنْ دُوْنِهِمُان سے علیحدہ
    13. امْرَاَتَيْنِدو عورتیں
    14. تَذُوْدٰنِروکے ہوئے ہیں
    15. قَالَاس نے کہا
    16. مَا خَطْبُكُمَاتمہارا کیا حال ہے
    17. قَالَتَاوہ دونوں بولیں
    18. لَا نَسْقِيْہم پانی نہیں پلاتیں
    19. حَتّٰىجب تک کہ
    20. يُصْدِرَواپس لے جائیں
    21. الرِّعَآءُچرواہے
    22. وَاَبُوْنَااور ہمارے ابا
    23. شَيْخٌ كَبِيْرٌبہت بوڑھے
Translation · Aasan Quran
اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ اس پر ایسے لوگوں کا ایک مجمع ہے جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں، اور دیکھا کہ ان سے پہلے دو عورتیں ہیں جو اپنے جانوروں کو روکے کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان سے کہا : تم کیا چاہتی ہو ؟ ان دونوں نے کہا : ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں جب تک سارے چرواہے پانی پلا کر نکل نہیں جاتے، اور ہمارے والد بہت بوڑھے آدمی ہیں۔ (12)
Tafseer · Aasan Quran
12: مطلب یہ تھا کہ ہمارے والد بوڑھے ہونے کی وجہ سے جانوروں کو پانی پلانے کے لئے نہیں آسکتے اور ہم چونکہ عورت ذات ہیں اس لئے مردوں میں گھس کر پانی نہیں پلاسکتیں، اس لئے انتظار میں ہیں کہ مرد چلے جائیں اور کنواں خالی ہوجائے تو ہم اپنے جانوروں کو لے جاکر پانی پلائیں، واضح رہے کہ ان عورتوں کے والد حضرت شعیب ؑ تھے جنہیں مدین کے لوگوں کی اصلاح کے لئے پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا، اور جن کا واقعہ سورة اعراف، سورة ہود وغیرہ میں تفصیل سے آچکا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت خواتین کا کسی کام کے لئے باہر نکلنا جائز ہے، البتہ اگر مرد کام انجام دے سکتے ہوں تو مردوں ہی کو انجام دینا چاہیے، اسی لئے انہوں نے اپنے آنے کی وجہ یہ بیان کی کہ ہمارے والد ضعیف ہیں، اور گھر میں کوئی اور مرد نہیں ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خواتین سے بات کرنا جائز ہے، خاص طور پر انہیں کسی مشکل میں مبتلا دیکھیں تو ان کی مدد کے لئے ان کا حال پوچھ کر حتی الامکان ان کی مدد کرنی چاہیے، بشرطیکہ کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔