Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 4

  1. اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ﴿4﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. فِرْعَوْنَفرعون
    3. عَلَاسرکشی کر رہا تھا
    4. فِي الْاَرْضِزمین (ملک) میں
    5. وَجَعَلَاور اس نے کردیا
    6. اَهْلَهَااس کے باشندے
    7. شِيَعًاالگ الگ گروہ
    8. يَّسْتَضْعِفُکمزور کر رکھا تھا
    9. طَآئِفَةًایک گروہ
    10. مِّنْهُمْان میں سے
    11. يُذَ بِّحُذبح کرتا تھا
    12. اَبْنَآءَهُمْان کے بیٹوں کو
    13. وَيَسْتَحْيٖاور زندہ چھوڑ دیتا تھا
    14. نِسَآءَهُمْان کی عورتوں کو
    15. اِنَّهٗبیشک وہ
    16. كَانَتھا
    17. مِنَسے
    18. الْمُفْسِدِيْنَمفسد (جمع)
Translation · Aasan Quran
واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کر رکھی تھی، اور اس نے وہاں کے باشندوں کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم کردیا تھا جن میں سے ایک گروہ کو اس نے اتنا دبا کر رکھا ہوا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا۔ (1) اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو فساد پھیلایا کرتے ہیں۔
Tafseer · Aasan Quran
1: جیسا کہ سورة طٰہٰ :36 کے حاشیے میں ہم نے عرض کیا ہے، فرعون کو کسی نجومی نے یہ کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص تمہاری سلطنت ختم کرے گا، اس لیے اس نے یہ حکم جاری کردیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ کو فکر ہوئی کہ ان کو بھی فرعون کے آدمی قتل کر ڈالیں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر الہام فرمایا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا اور فرعون کے کارندوں نے بچے کو اٹھا کر فرعون کے پاس پیش کیا، اور اس کی بیوی حضرت آسیہ نے اسے آمادہ کرلیا کہ اسے اپنا بیٹا بنا کر پالیں۔ یہی واقعہ آگے آیت نمبر 6 تا 8 میں بیان فرمایا گیا ہے۔