Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 29. Al-Ankaboot · Ayah 67

  1. اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ﴿67﴾

    1. اَوَکیا
    2. لَمْ يَرَوْاانہوں نے نہیں دیکھا
    3. اَنَّا جَعَلْنَاکہ ہم نے بنایا
    4. حَرَمًاحرم (سرزمین مکہ)
    5. اٰمِنًاامن کی جگہ
    6. وَّجبکہ
    7. يُتَخَطَّفُاچک لیے جاتے ہیں
    8. النَّاسُلوگ
    9. مِنْسے (کے)
    10. حَوْلِهِمْ ۭاس کے ارد گرد
    11. اَفَبِالْبَاطِلِکیا پس باطل پر
    12. يُؤْمِنُوْنَایمان لاتے ہیں
    13. وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِاور اللہ کی نعمت کی
    14. يَكْفُرُوْنَناشکری کرتے ہیں
Translation · Aasan Quran
بھلا کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے (ان کے شہر کو) ایک پرامن حرم بنادیا ہے، جبکہ ان کے اردگرد لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں اچک لیا جاتا ہے۔ (37) کیا پھر بھی یہ باطل پر ایمان لاتے ہیں، اور اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں ؟
Tafseer · Aasan Quran
37: پچھلی سورت یعنی سورة قصص :57 میں گذرا ہے کہ مشرکین مکہ اپنے ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ یہ پیش کرتے تھے کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو سارا عرب جو اس وقت ہماری عزت کرتا ہے، ہمارا مخالف ہوجائے گا، اور ہمیں اپنی سرزمین سے نکال کر باہر کرے گا۔ اس آیت میں اول تو اس بہانے کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی مکہ مکرمہ کو حرم بنا کر اسے اتنا پر امن علاقہ بنادیا ہے کہ وہاں کوئی قتل و غارت گری کی جرأت نہیں کرتا، حالانکہ اس کے ارد گرد اچھے خاصے لوگوں کو دن دہاڑے اچک کر قتل اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لہذا جب تمہاری نافرمانی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ چین کی زندگی دے رکھی ہے تو جب تم اس کے فرماں بردار بن جاؤگے تو کیا وہ تمہیں اس نعمت سے محروم کردے گا ؟ دوسرے اس آیت نے اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ مکہ مکرمہ کو کیا کسی بت نے یا دیوتا نے حرم بنادیا تھا جو تم ان کی عبادت کے پیچھے پڑے ہوئے ہو ؟ یقیناً اس خطے کو یہ تقدس تو اللہ تعالیٰ ہی نے عطا فرمایا ہے۔ پھر خود سوچ لو کہ عبادت کے لائق کون ہے ؟