Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 179

  1. مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ﴿179﴾

    1. مَا كَانَنہیں ہے
    2. اللّٰهُاللہ
    3. لِيَذَرَکہ چھوڑے
    4. الْمُؤْمِنِيْنَایمان والے
    5. عَلٰيپر
    6. مَآجو
    7. اَنْتُمْتم
    8. عَلَيْهِاس پر
    9. حَتّٰىیہانتک کہ
    10. يَمِيْزَجدا کردے
    11. الْخَبِيْثَناپاک
    12. مِنَسے
    13. الطَّيِّبِپاک
    14. وَمَا كَانَاور نہیں ہے
    15. اللّٰهُاللہ
    16. لِيُطْلِعَكُمْکہ تمہیں خبر دے
    17. عَلَيپر
    18. الْغَيْبِغیب
    19. وَلٰكِنَّاور لیکن
    20. اللّٰهَاللہ
    21. يَجْتَبِىْچن لیتا ہے
    22. مِنْسے
    23. رُّسُلِھٖاپنے رسول
    24. مَنْجس کو
    25. يَّشَآءُوہ چاہے
    26. فَاٰمِنُوْاتو تم ایمان لاؤ
    27. بِاللّٰهِاللہ پر
    28. وَرُسُلِھٖاور اس کے رسول
    29. وَاِنْاور اگر
    30. تُؤْمِنُوْاتم ایمان لاؤ
    31. وَتَتَّقُوْااور پر وہیز گاری
    32. فَلَكُمْتو تمہارے لیے
    33. اَجْرٌاجر
    34. عَظِيْمٌبڑا
Translation · Aasan Quran
اللہ ایسا نہیں کرسکتا کہ مومنوں کو اس حالت پر چھوڑ رکھے جس پر تم لوگ اس وقت ہو، جب تک وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کردے، اور (دوسری طرف) وہ ایسا بھی نہیں کرسکتا کہ تم کو (براہ راست) غیب کی باتیں بتادے۔ ہاں وہ (جتنا بتانا مناسب سمجھتا ہے اس کے لیے) اپنے پیغمبروں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ (60) لہذا تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو، اور اگر ایمان رکھو گے اور تقوی اختیار کرو گے تو زبردست ثواب کے مستحق ہوگے۔
Tafseer · Aasan Quran
60: آیت 176 سے 178 تک اس شبہ کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں تو انہیں دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی کیوں حاصل ہے ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آخرت میں تو کوئی حصہ ملنا نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ڈھیل دئیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے یہ مزید گناہوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت آنا ہے جب یہ اکٹھے عذاب میں دھر لیے جائیں گے۔ آیت 179 میں اس کے مقابل اس شبہ کا جواب ہے کہ مسلمان کو اللہ تعالیٰ پسند ہیں، اس کے باوجود ان پر مصیبتیں کیوں آرہی ہیں ؟ اس کا ایک جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ آزمائشیں مسلمانوں پر اس لیے آرہی ہیں تاکہ مسلمانوں پر واضح ہوجائے کہ ایمان کے دعوے میں کون کھرا ہے اور کون کھوٹا ؟ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس وضاحت کے بغیر نہیں چھوڑ سکتا، اور مشکلات ہی کے وقت یہ پتہ چلتا ہے کہ کون ثابت قدم رہتا ہے اور کون پھسل جاتا ہے ؟ اس پر یہ سوال ہوسکتا تھا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشکل میں ڈالے بغیر کیوں نہیں بتادیتا ؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی باتیں ہر ایک شخص کو نہیں بتاتا، بلکہ جتنی باتیں چاہتا ہے اپنے پیغمبر کو بتادیتا ہے۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان منافقین کی بد عملی آنکھوں سے دیکھ کر ان کے بارے میں رائے قائم کریں، اس لیے یہ آزمائشیں پیش آرہی ہیں۔ آزمائشوں کی مزید حکمت آگے آیات 185 اور 186 میں بھی بیان فرمائی گئی ہے۔