Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 6

  1. هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿6﴾

    1. ھُوَوہی ہے
    2. الَّذِيْجو کہ
    3. يُصَوِّرُكُمْصورت بناتا ہے تمہاری
    4. فِيمیں
    5. الْاَرْحَامِرحم (جمع)
    6. كَيْفَجیسے
    7. يَشَآءُوہ چاہے
    8. لَآ اِلٰهَنہیں معبود
    9. اِلَّا ھُوَاس کے سوا
    10. الْعَزِيْزُزبردست
    11. الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Aasan Quran
وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زبردست اقتدار کا بھی مالک ہے، اعلی درجے کی حکمت کا بھی (2)
Tafseer · Aasan Quran
2: اگر انسان اپنی پیدائش کے مختلف مراحل پر غور کرے کہ وہ ماں کے پیٹ میں کس طرح پرورش پاتا ہے اور کس طرح اس کی صورت دوسرے اربوں انسانوں سے بالکل الگ بنتی ہے کہ کبھی دو آدمی سوفیصد ایک جیسے نہیں ہوتے تو اسے یہ تسلیم کرنے میں دیر نہ لگے کہ یہ سب کچھ خدائے واحد کی قدرت اور حکمت کے تحت ہورہا ہے، اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ کے وجود اس کی وحدانیت اور حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، اس کے ساتھ اس سے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی کی گئی ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت ﷺ کے پاس آیا تھا اور اس نے اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے گفتگو کی تھی، سورة آل عران کی کئی آیات اسی پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، اس وفد نے حضرت عیسیٰ ؑ کے خدا کا بیٹا ہونے پر یہ دلیل بھی دی تھی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، یہ آیت اس دلیل کی تردید بھی کررہی ہے، اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص کی تخلیق اور صورت گری اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے، اگرچہ اس نے معمول کا طریقہ یہ بنایا ہے کہ ہر بچہ کسی باپ کے ذریعے پیدا ہوتا ہے ؛ لیکن وہ اس طریقے کانہ پابند ہے نہ محتاج، لہذا وہ جب چاہے جس کو چاہے بغیر باپ کے پیدا کرسکتا ہے اور اس سے کسی کا خدا یا خدا کا بیٹا ہونا لازم نہیں آتا۔