Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 66

  1. هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿66﴾

    1. ھٰٓاَنْتُمْہاں تم
    2. ھٰٓؤُلَآءِوہ لوگ
    3. حَاجَجْتُمْتم نے جھگڑا کیا
    4. فِيْمَاجس میں
    5. لَكُمْتمہیں
    6. بِهٖاس کا
    7. عِلْمٌعلم
    8. فَلِمَاب کیوں
    9. تُحَآجُّوْنَتم جھگڑتے ہو
    10. فِيْمَااس میں
    11. لَيْسَنہیں
    12. لَكُمْتمہیں
    13. بِهٖاس کا
    14. عِلْمٌکچھ علم
    15. وَاللّٰهُاور اللہ
    16. يَعْلَمُجانتا ہے
    17. وَاَنْتُمْاور تم
    18. لَانہٰیں
    19. تَعْلَمُوْنَجانتے
Translation · Aasan Quran
دیکھو ! یہ تم ہی تو ہو جنہوں نے ان معاملات میں اپنی سی بحث کرلی ہے جن کا تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا۔ (26) اب ان معاملات میں کیوں بحث کرتے ہو جن کا تمہیں سرے سے کوئی علم ہی نہیں ہے ؟ اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔
Tafseer · Aasan Quran
26: یہودی کہا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ عیسائی تھے، اول تو قرآن کریم نے فرمایا کہ یہ دونوں مذہب تورات اور انجیل کے نزول کے بعد وجود میں آئے، جبکہ حضرت ابرہیم ؑ بہت پہلے گزر چکے تھے، لہذا یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے، اس کے بعد قرآن کریم نے فرمایا کہ جب تمہارے وہ دلائل جو کسی نہ کسی صحیح حقیقت پر مبنی تھے، تمہارے دعوؤں کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں یہ بےبنیاد اور جاہلانہ بات کیسے تمہارے دعوے کو ثابت کرسکتی ہے، مثلاً تمہیں یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور اس کی بنیاد پر تم نے ان کی خدائی کی دلیل پیش کرکے بحث کی مگر کامیاب نہ ہوسکے ؛ کیونکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا کسی کی خدائی کی دلیل نہیں ہوسکتا، حضرت آدم ؑ تو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے مگر انکو تم بھی خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے، جب تمہاری وہ دلیلیں بھی کام نہ آسکیں جو اس صحیح واقعے پر مبنی تھیں تو سراسر جاہلانہ بات کہ حضرت ابراہیم ؑ نصرانی یا یہودی تھے کیسے تمہارے لئے کارآمد ہوسکتی ہے ؟