آسان قرآن
Aasan Quran · 30. Ar-Room · Ayah 39
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ﴿39﴾
- وَمَآاور جو
- اٰتَيْتُمْتم دو
- مِّنْسے
- رِّبًاسود
- لِّيَرْبُوَا۟تاکہ بڑھے
- فِيْٓمیں
- اَمْوَالِمال (جمع)
- النَّاسِلوگ (جمع)
- فَلَا يَرْبُوْاتو نہیں بڑھتا
- عِنْدَ اللّٰهِ ۚاللہ کے ہاں
- وَمَآ اٰتَيْتُمْاور جو تم دو
- مِّنْسے
- زَكٰوةٍزکوۃ
- تُرِيْدُوْنَچاہتے ہوئے
- وَجْهَ اللّٰهِاللہ کی رضا
- فَاُولٰٓئِكَتو وہی لوگ
- هُمُوہ
- الْمُضْعِفُوْنَچند در چند کرنے والے
Translation · Aasan Quran
اور یہ جو تم سود دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے نزدیک بڑھتا نہیں ہے۔ (18) اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں وہ ہیں جو (اپنے مال کو) کئی گنا بڑھا لیتے ہیں۔ (19)
Tafseer · Aasan Quran
18: واضح رہے کہ سورة روم کی یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تھی، اور یہ پہلی آیت ہے جس میں سود کی مذمت کی گئی ہے، اس وقت تک سود کو واضح لفظوں میں حرام نہیں کیا گیا تھا، لیکن اشارہ فرما دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سود کی آمدنی بڑھتی نہیں، یعنی سود لینے والا لیتا تو اسی ارادے سے ہے کہ اس سے اس کی دولت بڑھے گی، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑھتی نہیں، کیونکہ اول تو دنیا میں بھی حرام مال اگرچہ گنتی میں بڑھ جائے، لیکن اس میں برکت نہیں ہوتی، مال و دولت کا اصل فائدہ تو یہ ہے کہ انسان کو اس سے آرام و راحت نصیب ہو، لیکن حرام آمدنی کی گنتی بڑھانے والے بکثرت دنیا میں بھی پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں۔ اور انہیں راحت نصیب نہیں ہوتی۔ دوسرے دولت کی یہ بڑھوتری آخرت میں کچھ کام نہیں آتی، اس کے برخلاف صدقات آخرت میں کام آتے ہیں۔ اسی حقیقت کو سورة بقرہ میں 276 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے، اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔
واضح رہے کہ اس آیت میں رباء کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مشہور معنی سود کے ہیں ؛ لیکن اس کے ایک معنی اور ہیں اور وہ یہ کہ کوئی شخص اس نیت سے کسی کو کوئی تحفہ دے کہ وہ اس کو اس سے زیادہ قیمتی تحفہ دے گا، مثلاً شادی بیاہ کے موقع پر نیوتہ کی جو رسم ہوتی ہے اس کا یہی مقصد ہوتا ہے ؛ چنانچہ بہت سے مفسرین نے یہاں رباء کے یہی معنی مراد لئے ہیں، اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں نیوتہ کی رسم کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اس قسم کا تحفہ جس کا مقصد قیمتی تحفہ حاصل کرنا ہو اس کو سورة مدثر (آیت نمبر : 6) میں بھی ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
19: سورة آل عمران : 261 میں فرمایا گیا ہے کہ صدقے کا ثواب سات سو گنا ملتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتے ہیں، مزید اضافہ فرما دیتے ہیں۔