آسان قرآن
Aasan Quran · 31. Luqman · Ayah 12
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿12﴾
- وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور البتہ ہم نے دی
- لُقْمٰنَلقمان
- الْحِكْمَةَحکمت
- اَنِکہ
- اشْكُرْتم شکر کرو
- لِلّٰهِ ۭاللہ کا
- وَمَنْاور جو
- يَّشْكُرْشکر کرتا ہے
- فَاِنَّمَاتو اس کے سوا نہیں (صرف)
- يَشْكُرُوہ شکر کرتا ہے
- لِنَفْسِهٖ ۚاپنے لیے
- وَمَنْ كَفَرَاور جس نے ناشکری کی
- فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
- غَنِيٌّبےنیاز
- حَمِيْدٌتعریفوں کے ساتھ
Translation · Aasan Quran
اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی، (4) (اور ان سے کہا تھا) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو۔ (5) اور جو کوئی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے وہ خود اپنے فائدے کے لیے شکر کرتا ہے اور اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ بڑا بےنیاز ہے، بذات خود قابل تعریف۔
Tafseer · Aasan Quran
4: حضرت لقمان کے بارے میں راجح بات یہی ہے کہ وہ نبی نہیں، بلکہ ایک دانشمند شخص تھے، وہ کس زمانے میں تھے ؟ اور کس علاقے کے باشندے تھے، اس کے بارے میں بھی روایات بہت مختلف ہیں، جن سے کوئی حتمی نتیجہ نکالنا مشکل ہے، بعض روایات میں ہے کہ وہ یمن کے باشندے تھے اور حضرت ہود ؑ کے جو ساتھی عذاب سے بچ گئے تھے، ان میں یہ بھی شامل تھے، اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ حبشہ سے تعلق رکھتے تھے، لیکن قرآن کریم نے ان کا جس غرض سے تذکرہ فرمایا ہے، وہ ان تفصیلات کے جاننے پر موقوف نہیں ہے، یہ بات واضح ہے کہ عرب کے لوگ ان کو عظیم دانشور سمجھتے تھے، اور ان کی حکمت کی باتیں ان کے درمیان مشہور تھیں، جاہلیت کے زمانے کے کئی شعراء نے ان کا تذکرہ کیا ہے، لہذا ان کی باتیں بجا طور پر ان اہل عرب کے سامنے حجت کے طور پر پیش کی جاسکتی تھیں۔
5: