Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 32. As-Sajda · Ayah 4

  1. اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ﴿4﴾

    1. اَللّٰهُاللہ
    2. الَّذِيْوہ جس نے
    3. خَلَقَپیدا کیا
    4. السَّمٰوٰتِآسمانوں کو
    5. وَالْاَرْضَاور زمین
    6. وَمَااور جو
    7. بَيْنَهُمَاان کے درمیان
    8. فِيْمیں
    9. سِتَّةِچھ
    10. اَيَّامٍدن
    11. ثُمَّپھر
    12. اسْتَوٰياس نے قرار کیا
    13. عَلَي الْعَرْشِ ۭعرش پر
    14. مَا لَكُمْتمہارے لیے نہیں
    15. مِّنْ دُوْنِهٖاس کے سوا
    16. مِنْسے۔ کوئی
    17. وَّلِيٍّمددگار
    18. وَّلَا شَفِيْعٍ ۭاور نہ سفارش کرنے والا
    19. اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَسو کیا تم غور نہیں کرتے
Translation · Aasan Quran
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان ساری چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ (2) اس کے سوا نہ تمہارا کوئی رکھوالا ہے، نہ کوئی سفارشی (3) کیا پھر بھی تم کسی نصیحت پر دھیان نہیں دیتے ؟
Tafseer · Aasan Quran
2: استواء کے لفظی معنی سیدھا ہونے اور بیٹھنے کے آتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء فرمانے کا صحیح مطلب ہماری فہم اور ادراک سے باہر ہے، اس لئے اس کی تفصیلات میں جانے کی نہ ضرورت ہے نہ اس کا کوئی یقینی نتیجہ نکل سکتا ہے، اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ جو کچھ قرآن کریم نے فرمایا ہے وہ برحق ہے۔ 3: اہل عرب بتوں کی پوجا اس عقیدے سے کیا کرتے تھے کہ یہ بت اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کر کے ہماری دنیوی ضروریات پوری کریں گے۔ جیسا کہ سورة یونس : 18 میں اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ عقیدہ بیان فرمایا ہے۔