Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 32. As-Sajda · Ayah 5

  1. یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ﴿5﴾

    1. يُدَبِّرُوہ تدبیر کرتا ہے
    2. الْاَمْرَتمام کام
    3. مِنَسے
    4. السَّمَآءِآسمان
    5. اِلَى الْاَرْضِزمین تک
    6. ثُمَّپھر
    7. يَعْرُجُوہ رجوع کرے گا
    8. اِلَيْهِاس کی طرف
    9. فِيْ يَوْمٍایک دن میں
    10. كَانَہے
    11. مِقْدَارُهٗٓاس کی مقدار
    12. اَلْفَ سَنَةٍایک ہزار سال
    13. مِّمَّااس سے جو
    14. تَعُدُّوْنَتم شمار کرتے ہو
Translation · Aasan Quran
وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کا انتظام خود کرتا ہے، پھر وہ کام ایک ایسے دن میں اس کے پاس اوپر پہنچ جاتا ہے جس کی مقدار گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال ہوتی ہے۔ (4)
Tafseer · Aasan Quran
4: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے ایک ہزار سال کے برابر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کی صحیح تشریح تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اسے متشابہات میں بھی شمار کیا ہے، لیکن دوسرے مفسرین کے مطابق اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے جو ایک ہزار سال کے برابر ہوگا، اور مطلب یہ ہے کہ جتنی مخلوقات کا انتظام اس وقت اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں، وہ سب آخر کار قیامت کے دن ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن امور کا فیصلہ فرماتے ہیں، ان کی تنفیذ اپنے اپنے طے شدہ وقت پر ہوتی ہے، چنانچہ بعض امور کی تنفیذ میں انسانوں کی گنتی کے مطابق ایک ہزار سال بھی لگ جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ایک ہزار سال بھی کوئی بڑی مدت نہیں ہے، بلکہ ایک دن کے برابر ہے، چنانچہ جیسا کہ سورة حج : 47 میں فرمایا گیا ہے، کفار کے سامنے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ان کے کفر کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا یا آخرت میں عذاب آئے گا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے کہ اتنے دن گذر گئے، لیکن کوئی عذاب نہیں آیا، اگر واقعی عذاب آنا ہے تو ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کر رکھا ہے وہ تو ضرور پورا ہوگا۔ رہا اس کا وقت، تو وہ اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمت کے مطابق متعین ہوگا۔ اور تم جو سمجھ رہے ہو کہ اس کے آنے میں بہت دیر ہوگئی ہے تو در حقیقت تم جس مدت کو ایک ہزار سال سمجھتے ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے برابر ہے۔ اس آیت کی کچھ تفصیل انشاء اللہ سورة معارج : 3 میں آئے گی۔