آسان قرآن
Aasan Quran · 34. Saba · Ayah 15
لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ﴿15﴾
- لَقَدْ كَانَالبتہ تھی
- لِسَبَاٍ(قوم) سبا کے لیے
- فِيْمیں
- مَسْكَنِهِمْان کی آبادی
- اٰيَةٌ ۚایک نشانی
- جَنَّتٰنِدو باغ
- عَنْ يَّمِيْنٍدائیں سے
- وَّ شِمَالٍاور بائیں
- كُلُوْاتم کھاؤ
- مِنْسے
- رِّزْقِ رَبِّكُمْاپنے رب کے رزق
- وَاشْكُرُوْااور شکر ادا کرو
- لَهٗ ۭاس کا
- بَلْدَةٌشہر
- طَيِّبَةٌپاکیزہ
- وَّرَبٌّاور پروردگار
- غَفُوْرٌبخشنے والا
Translation · Aasan Quran
حقیقت یہ ہے کہ قوم سبا کے لیے خود اس جگہ ایک نشانی موجود تھی جہاں وہ رہا کرتے تھے۔ (10) دائیں اور بائیں دونوں طرف باغوں کے دو سلسلے تھے۔ اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ، ایک تو شہر بہترین، دوسرے پروردگار بخشنے والا۔
Tafseer · Aasan Quran
10: قوم سبا یمن میں آباد تھی اور کسی زمانے میں وہ اپنے تہذیب و تمدن میں ممتاز حیثیت رکھتی تھی، جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے، ان کی زمینیں بڑی زرخیز تھیں، ان کی سڑکوں کے دونوں طرف پھل دار باغات کے سلسلے دور تک چلے گئے تھے، خوشحالی بھی میسر تھی، اور سیاسی استحکام بھی ؛ لیکن رفتہ رفتہ یہ لوگ اپنی عیاشیوں میں ایسے مگن ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کو بھول بیٹھے اور شرک کو اپنا مذہب بنالیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس کئی پیغمبر بھیجے، حافظ ابن کثیر کے بیان کے مطابق ان کے پاس یکے بعد دیگرے تیرہ پیغمبر بھیجے گئے، جنہوں نے اس قوم کو ہر طرح سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی کوشش کی، مگر یہ نہ مانے، آخر کار ان پر جو عذاب آیا وہ یہ تھا کہ مآرب کے مقام پر ایک بند تھا جس کے پانی سے ان کی زمینیں سیراب ہوتی تھیں، اللہ تعالیٰ نے وہ بند توڑدیا اور اس طرح پوری بستی کو سیلاب نے گھیر لیا اور سارے باغات تباہ ہوگئے۔