Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 34. Saba · Ayah 14

  1. فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ﴿14﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب ہم نے
    2. قَضَيْنَاحکم جاری کیا
    3. عَلَيْهِاس پر
    4. الْمَوْتَموت
    5. مَا دَلَّهُمْانہیں پتہ نہ دیا
    6. عَلٰي مَوْتِهٖٓاس کی موت کا
    7. اِلَّامگر
    8. دَآبَّةُ الْاَرْضِگھن کا کیڑا
    9. تَاْكُلُوہ کھاتا تھا
    10. مِنْسَاَتَهٗ ۚاس کا عصا
    11. فَلَمَّاپھر جب
    12. خَرَّوہ گرپڑا
    13. تَبَيَّنَتِحقیقت کھلی
    14. الْجِنُّجن
    15. اَنْاگر
    16. لَّوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَوہ جانتے ہوتے
    17. الْغَيْبَغیب
    18. مَا لَبِثُوْاوہ نہ رہتے
    19. فِيمیں
    20. الْعَذَابِعذاب
    21. الْمُهِيْنِذلت
Translation · Aasan Quran
پھر جب ہم نے سلیمان کی موت کا فیصلہ کیا تو ان جنات کو ان کی موت کا پتہ کسی اور نے نہیں بلکہ زمین کے کیڑے نے دیا جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ (9) چنانچہ جب وہ گرپڑے تو جنات کو معلوم ہوا کہ اگر وہ غیب کا علم جانتے ہوتے تو اس ذلت والی تکلیف میں مبتلا نہ رہتے۔
Tafseer · Aasan Quran
9: حضرت سلیمان ؑ نے بیت المقدس کی تعمیر پر جنات کو مقرر کیا ہوا تھا یہ جنات طبعی طور پر سرکش تھے اور صرف حضرت سلیمان ؑ کی نگرانی میں کام کرتے تھے، اور اندیشہ تھا کہ حضرت سلیمان ؑ کی وفات کے بعد وہ کام کرنا چھوڑ دیں گے، اس لئے جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے یہ تدبیر اختیار کی کہ جنات کی نگاہوں کے سامنے ایک عصا کے سہارے اپنی عبادت گاہ میں کھڑے ہوگئے، جو شفاف شیشے کی بنی ہوئی تھی، تاکہ جنات انہیں دیکھتے رہیں، اسی حالت میں ان کی وفات ہوگئی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو عصا کے سہارے کھڑا رکھا، اور جنات یہ سمجھتے رہے کہ وہ زندہ ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے تعمیر کا کام مکمل کرلیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس عصا پر دیمک مسلط فرمادی جس نے عصا کو کھانا شروع کیا، عصا کمزور پڑگیا، اور حضرت سلیمان ؑ کا جسم گرپڑا، اس وقت جنات کو احساس ہوا کہ وہ اپنے آپ کو جو عالم الغیب سمجھتے تھے وہ کتنی غلط بات تھی اگر انہیں غیب کا پتہ ہوتا تو وہ اتنے دن تک غلط فہمی میں مبتلا رہ کر تعمیر کے کام کی تکلیف نہ اٹھاتے۔