آسان قرآن
Aasan Quran · 34. Saba · Ayah 21
وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ع﴿21﴾
- وَمَا كَانَاور نہ تھا
- لَهٗاسے (ابلیس کو)
- عَلَيْهِمْان پر
- مِّنْ سُلْطٰنٍکوئی غلبہ
- اِلَّامگر
- لِنَعْلَمَتاکہ ہم معلوم کرلیں
- مَنْ يُّؤْمِنُجو ایمان رکھتا ہے
- بِالْاٰخِرَةِآخرت پر
- مِمَّنْاس سے جو
- هُوَوہ
- مِنْهَااس سے
- فِيْ شَكٍّ ۭشک میں
- وَرَبُّكَاور تیرا رب
- عَلٰيپر
- كُلِّ شَيْءٍہر شے
- حَفِيْظٌنگہبان
Translation · Aasan Quran
اور ابلیس کو ان پر کوئی تسلط نہیں تھا، البتہ ہم (نے اس کو بہکانے کی صلاحیت اس لیے دی تھی کہ) ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون ہے جو آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون ہے جو اس کے بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔ (15) اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگران ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
15: یعنی شیطان کو ہم نے کوئی ایسی طاقت نہیں دی تھی کہ وہ انسانوں پر زبردستی مسلط ہو کر ان کو نافرمانی پر مجبور کردے، البتہ اسے صرف بہکانے کی صلاحیت دی تھی، جس سے دل میں گناہ کی خواہش ضرور پیدا ہوجاتی ہے، مگر کوئی شخص گناہ اور نافرمانی پر مجبور نہیں ہوتا، اور اگر کوئی شخص عقل اور شریعت کے مطالبے پر ڈٹ جائے تو شیطان کچھ بھی نہیں کرسکتا اور یہ صلاحیت بھی اس کو اس لئے دی گئی ہے کہ اس کے ذریعے انسانوں کی آزمائش بھی مقصود تھی کہ کون ہے جو آخرت کی زندگی کو پیش نظر رکھ کر شیطان کی بات رد کردیتا ہے اور کون اسے مان لیتا ہے۔