Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 34. Saba · Ayah 3

  1. وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ﴿3﴾

    1. وَقَالَاور کہا (کہتے ہیں)
    2. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاجن لوگوں نے کفر کیا (کافر)
    3. لَا تَاْتِيْنَاہم پر نہیں آئے گی
    4. السَّاعَةُ ۭقیامت
    5. قُلْفرما دیں
    6. بَلٰىہاں
    7. وَرَبِّيْقسم میرے رب کی
    8. لَتَاْتِيَنَّكُمْ ۙالبتہ تم پر ضرور آئے گی
    9. عٰلِمِجاننے والا
    10. الْغَيْبِ ۚغیب
    11. لَا يَعْزُبُپوشیدہ نہیں
    12. عَنْهُاس سے
    13. مِثْقَالُ ذَرَّةٍایک ذرہ کے برابر
    14. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    15. وَلَااور نہ
    16. فِي الْاَرْضِزمین میں
    17. وَلَآاور نہ
    18. اَصْغَرُچھوٹا
    19. مِنْ ذٰلِكَاس سے
    20. وَلَآاور نہ
    21. اَكْبَرُبڑا
    22. اِلَّامگر
    23. فِيْمیں
    24. كِتٰبٍ مُّبِيْنٍروشن کتاب
Translation · Aasan Quran
اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ : ہم پر قیامت نہیں آئے گی، کہہ دو : کیوں نہیں آئے گی ؟ میرے عالم الغیب پروردگار کی قسم ! وہ تم پر ضرور آکر رہے گی۔ کوئی ذرہ برابر چیز اس کی نظر سے دور نہیں ہوتی۔ (1) نہ آسمانوں میں، نہ زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی کوئی چیز ایسی ہے نہ بڑی جو ایک کھلی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں درج نہ ہو۔
Tafseer · Aasan Quran
1: جو کافر لوگ آخرت کی زندگی کا انکار کرتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ انسان کے مٹی میں مل جانے کے بعد اس کو از سرِ نو زندگی دینا کیسے ممکن ہے ؟ ان آیتوں میں جواب یہ دیا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کو انسان پر قیاس کر رہے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم تو اس کائنات کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرے کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہے، اور جو ذات آسمان و زمین جیسی عظیم الشان مخلوقات کو بالک عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لئے یہ کیا مشکل ہے کہ مردہ جسم کے ذرات کو دوبارہ اکٹھا کر کے انہیں نئی زندگی عطا کردے ؟ اور آیت نمبر 4 میں آخرت کی زندگی کی عقلی ضرورت بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ کہ اگر یہ دنیا ہی سب کچھ ہے، اور کوئی دوسری زندگی آنے والی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرماں برداروں اور نافرمانوں میں کوئی فرق ہی نہیں رکھا، آخرت کی زندگی اس لئے ضروری ہے تاکہ اس میں فرماں براداروں کو ان کی نیکی کا انعام دیا جائے، اور نافرمانوں کو سزا ملے۔