Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 35. Faatir · Ayah 1

  1. اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿1﴾

    1. اَلْحَمْدُتمام تعریفیں
    2. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    3. فَاطِرِپیدا کرنے والا
    4. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    5. وَالْاَرْضِاور زمین
    6. جَاعِلِبنانے والا
    7. الْمَلٰٓئِكَةِفرشتے
    8. رُسُلًاپیغامبر
    9. اُولِيْٓ اَجْنِحَةٍپروں والے
    10. مَّثْنٰىدو دو
    11. وَثُلٰثَاور تین تین
    12. وَرُبٰعَ ۭاور چار چار
    13. يَزِيْدُزیادہ کردیتا ہے
    14. فِي الْخَلْقِپیدائش میں
    15. مَا يَشَآءُ ۭجو وہ چاہے
    16. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    17. عَلٰيپر
    18. كُلِّ شَيْءٍہر شے
    19. قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا ہے
Translation · Aasan Quran
تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے ان فرشتوں کو پیغام لے جانے کے لیے مقرر کیا ہے، جو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں۔ وہ پیدائش میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کردیتا ہے۔ (1) بیشک اللہ ہر چیز کی قدرت رکھنے والا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
1: پچھلے جملے کی مناسبت سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کی پروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اضافہ کردیتا ہے، چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ کے چھ سو پروں کی تعداد حدیث میں آئی ہے، لیکن الفاظ عام ہیں، اور ہر تخلیق کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں چاہتا ہے، کسی خاص وصف کا اضافہ فرما دیتا ہے۔