Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 38. Saad · Ayah 10

  1. اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ﴿10﴾

    1. اَمْ لَهُمْکیا ان کے لیے
    2. مُّلْكُ السَّمٰوٰتِبادشاہت آسمانوں
    3. وَالْاَرْضِاور زمین
    4. وَمَا بَيْنَهُمَا ۣاور جو ان دونوں کے درمیان
    5. فَلْيَرْتَقُوْاتو وہ چڑھ جائیں
    6. فِي الْاَسْبَابِرسیوں میں (رسیاں تان کر)
Translation · Aasan Quran
یا پھر آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز کی بادشاہت ان کے قبضے میں ہے ؟ (4) پھر تو انہیں چاہیے کہ رسیاں تان کر اوپر چڑھ جائیں۔ (5)
Tafseer · Aasan Quran
4: مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی نبوت پر یہ لوگ اس طرح اعتراضات کر رہے ہیں جیسے نبوت جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک حصہ ہے، ان کے اپنے اختیار میں ہے کہ جسے یہ چاہیں اسے نبی بنایا جائے، اور جسے یہ ناپسند کریں، اسے نبوت نہ دی جائے۔ 5: یعنی اگر یہ اتنے وسیع اختیارات کے مالک ہیں تو ان میں رسیاں تان کر آسمان پر چڑھنے کی بھی طاقت ہونی چاہیے، جو ظاہر ہے کہ انہیں حاصل نہیں ہے، اس لیے آسمان و زمین کی معلومات پر انہیں کیا اختیار ہوگا جس کی بنا پر وہ یہ رائے دیں کہ فلاں کو نبی بنایا جائے اور فلاں کو نہ بنایا جائے۔