Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 15

  1. فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ﴿15﴾

    1. فَاعْبُدُوْاپس تم پرستش کرو
    2. مَا شِئْتُمْجس کی تم چاہو
    3. مِّنْ دُوْنِهٖ ۭاس کے سوائے
    4. قُلْفرمادیں
    5. اِنَّبیشک
    6. الْخٰسِرِيْنَگھاٹا پانے والے
    7. الَّذِيْنَوہ جنہوں نے
    8. خَسِرُوْٓاگھاٹے میں ڈالا
    9. اَنْفُسَهُمْاپنے آپ کو
    10. وَاَهْلِيْهِمْاور اپنے گھر والے
    11. يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭروز قیامت
    12. اَلَاخوب یاد رکھو
    13. ذٰلِكَیہ
    14. هُوَوہ
    15. الْخُسْرَانُگھاٹا
    16. الْمُبِيْنُصریح
Translation · Aasan Quran
اب تم اسے چھوڑ کر جس کی چاہو، عبادت کرو۔ (8) کہہ دو کہ : گھاٹے کا سودا کرنے والے تو وہ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں سب کو ہرا بیٹھیں گے۔ یاد رکھو کہ کھلا ہوا گھاٹا یہی ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
8: اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کافروں کو کفر کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، کیونکہ اگلے ہی جملے میں صاف فرما دیا گیا ہے کہ یہ گھاٹے کا سودا ہے، اور پیچھے آیت نمبر 7 میں فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کفر کو پسند نہیں فرماتا۔ لہذا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اس بات کی طاقت ضرور دی گئی ہے کہ تم اگر کفر اختیار کرنا چاہو تو کرسکو، تمہیں ایمان لانے پر زبردستی مجبور نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن اپنا سب کچھ ہار بیٹھو گے۔