Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 25

  1. فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ﴿25﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. جَآءَهُمْوہ آئے انکے پاس
    3. بِالْحَقِّحق کے ساتھ
    4. مِنْ عِنْدِنَاہماری طرف سے
    5. قَالُواانہوں نے کہا
    6. اقْتُلُوْٓاتم قتل کردو
    7. اَبْنَآءَان کے بیٹے
    8. الَّذِيْنَوہ جو
    9. اٰمَنُوْاایمان لائے
    10. مَعَهٗاس کے ساتھ
    11. وَاسْتَحْيُوْااور زندہ رہنے دو
    12. نِسَآءَهُمْ ۭانکی عورتیں (بیٹیاں
    13. وَمَا كَيْدُاور نہیں داؤ
    14. الْكٰفِرِيْنَکافروں کا
    15. اِلَّاسوائے
    16. فِيْ ضَلٰلٍگمراہی میں
Translation · Aasan Quran
پھر جب وہ لوگوں کے پاس وہ حق بات لے کر گئے جو ہماری طرف سے آئی تھی (5) تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو۔ حالانکہ کافروں کی چال کا اناجم اس کے سوا کچھ نہیں وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں
Tafseer · Aasan Quran
5: یعنی جب وہ سچے دین کا پیغام عام لوگوں کے پاس لے کر گئے اور بہت سے لوگ ان پر ایمان لانے لگے تو فرعون کے لوگوں نے یہ تجویز دی کہ جو مرد ایمان لائیں، ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور عورتوں کو زندہ رکھو تاکہ انہیں غلام بناکر ان سے خدمت لی جائے، یہ حکم ایک تو موسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے دیا گیا تھا جس کی تفصیل سورة طٰہٰ اور سورة قصص میں گزرچکی ہے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نجومی نے پیشین گوئی کی تھی کہ بنی اسرائیل کا کوئی شخص فرعون کا تختہ الٹے گا، اور دوسری بار یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لوگ حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے لگے، اور بیٹوں کو قتل کرنے کا منشاء ایک تو یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی نسل نہ پھیلے، اور دوسرے عام طور سے انسان کو اپنے بیٹوں کے قتل ہونے کا زیادہ صدمہ ہوتا ہے، اس لئے لوگ ایمان لاتے ہوئے ڈریں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آگے ارشاد فرمایا ہے کہ کافروں کی اس طرح کی تدبیریں آخر کار ناکام ہوتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہوتا ہے وہی غالب رہتا ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آخر کار فرعون غرق ہوا اور بنی اسرائیل کو فتح حاصل ہوئی۔