آسان قرآن
Aasan Quran · 41. Fussilat · Ayah 10
وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ﴿10﴾
- وَجَعَلَاور اس نے بنایا
- فِيْهَااس میں
- رَوَاسِيَپہاڑ (جمع)
- مِنْ فَوْقِهَااسی کے اوپر
- وَبٰرَكَاور برکت رکھی
- فِيْهَااس میں
- وَقَدَّرَاور مقرر کیں
- فِيْهَآاس میں
- اَقْوَاتَهَاان کی خوراکیں
- فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ ۭچار دنوں میں
- سَوَآءًیکساں
- لِّلسَّآئِلِيْنَتمام سوال کرنیوالوں کے لئے
Translation · Aasan Quran
اور اس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے جو اس کے اوپر ابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی (2) اور اس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیدا کیں۔ سب کچھ چار دن میں (3) تمام سوال کرنے والوں کے لیے برابر (4)
Tafseer · Aasan Quran
2: زمین میں برکت ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مخلوقات کے فائدے کی چیزیں پیدا فرمائیں، اور ایسا نظام بنادیا کہ وہ زمین سے ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں نکلتی رہیں۔
3: ان چار دنوں میں زمین کی تخلیق بھی شامل ہے جس کے بارے میں پیچھے فرمایا گیا تھا کہ وہ دو دن میں مکمل فرمائی، لہذا دو دن میں زمین پیدا کی گئی اور دو دن میں اس زمین پر پہاڑ اور دوسری انسانی ضروریات کی چیزیں اور خوارک وغیرہ پیدا کرنے کا انتظام فرمایا گیا، اس طرح زمین اور اس کے اوپر کی اشیاء پیدا کرنے میں کل چار دن استعمال فرمائے گئے۔ اور دو دن میں ساتوں آسمان پیدا فرمائے گئے۔ اس طرح کائنات کی تخلیق کل چھ دن میں مکمل ہوئی، جیسا کہ سورة اعراف : 54، سورة یونس : 3، سورة ہود : 7 سورة فرقان : 59 سورة الم السجدہ : 4 اور سورة حدید : 4 میں مذکور ہے۔ سورة اعراف میں ہم یہ عرض کرچکے ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب دنوں کا حساب سورج کے طلوع و غروب کے بجائے کسی اور معیار پر ہوتا تھا جس کا ٹھیک ٹھیک علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اور اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ بھی تھا کہ وہ ایک ہی لمحے میں سب کچھ پیدا فرما دیتے، لیکن اس عمل کے ذریعے انسان کو بھی جلد بازی کے بجائے اطمینان اور وقار کے ساتھ کام کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، نیز اس میں اور بھی نہ جانے کیا کیا مصلحتیں ہوں گی جن کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
4: اس جملے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ جو لوگ بھی زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں سوال کریں، ان سب کے لیے یہ یکساں جواب ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ”سوال کرنے والوں“ سے مراد وہ ساری مخلوقات ہیں جو زمین سے غذائیں حاصل کرنا چاہیں، چاہے وہ انسان ہوں، یا جنات، یا جانور۔ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے یہ موقع عطا فرمایا ہے کہ وہ زمین سے اپنی اپنی عذا حاصل کرسکیں۔ مختلف مفسرین نے اس جملے کی یہ دونوں تفسیریں کی ہیں، چنانچہ ترجمے میں بھی دونوں کی گنجائش ہے۔