آسان قرآن
Aasan Quran · 41. Fussilat · Ayah 16
فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ﴿16﴾
- فَاَرْسَلْنَاپس ہم نے بھیجی
- عَلَيْهِمْان پر
- رِيْحًاہوا
- صَرْصَرًاتند وتیز
- فِيْٓ اَيَّامٍدنوں میں
- نَّحِسَاتٍنحوست
- لِّنُذِيْقَهُمْتاکہ ہم چکھائیں
- عَذَابَعذاب
- الْخِزْيِرسوائی
- فِيمیں
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭدنیا کی زندگی
- وَلَعَذَابُاور البتہ عذاب
- الْاٰخِرَةِآخرت
- اَخْزٰىزیادہ رسوا کرنیوالا
- وَهُمْاور وہ
- لَا يُنْصَرُوْنَمدد نہ کئے جائیں گے
Translation · Aasan Quran
چنانچہ ہم نے کچھ منحوس دنوں میں (9) ان پر آندھی کی شکل میں ہوا بھیجی تاکہ انہیں دنیوی زندگی میں رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔ اور ان کو کوئی مدد میسر نہیں آئے گی۔
Tafseer · Aasan Quran
9: قرآن و سنت کے متعدد دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ تمام دن اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، اور کسی بھی دن میں بذات خود کوئی عمومی نحوست نہیں ہوتی، اس لیے یہاں منحوس دنوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ دن ان لوگوں کے لیے منحوس ثابت ہوئے۔