آسان قرآن
Aasan Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 32
اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴿32﴾
- اَهُمْ يَقْسِمُوْنَکیا وہ تقسیم کرتے پھرتے ہیں
- رَحْمَتَ رَبِّكَرحمت تیرے رب کی
- نَحْنُ قَسَمْنَاہم نے تقسیم کی
- بَيْنَهُمْان کے درمیان
- مَّعِيْشَتَهُمْان کی معیشت
- فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی میں
- وَرَفَعْنَااور بلند کیا ہم نے
- بَعْضَهُمْان میں سے بعض کو
- فَوْقَ بَعْضٍبعض پر
- دَرَجٰتٍدرجوں میں
- لِّيَتَّخِذَتاکہ بنائیں
- بَعْضُهُمْان میں سے بعض
- بَعْضًا سُخْرِيًّابعض کو خدمت گار۔ تابع دار
- وَرَحْمَتُ رَبِّكَاور رحمت تیرے رب کی
- خَيْرٌبہتر ہے
- مِّمَّاہراس چیز سے
- يَجْمَعُوْنَجو وہ جمع کررہے ہیں
Translation · Aasan Quran
بھلا کیا یہ لوگ ہیں جو تمہارے پروردگار کی رحمت تقسیم کریں گے ؟ (8) دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے ذرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ اور تمہارے پروردگار کی رحمت تو اس (دولت) سے کہیں بہتر چیز ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔ (9)
Tafseer · Aasan Quran
8: یہاں رحمت سے مراد نبوت ہے، اور مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ جو تجویز پیش کر رہے ہیں کہ قرآن مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہونا چاہیے تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو اس فیصلے کا حق دار سمجھتے ہیں کہ نبوت کی رحمت کس کو عطا کی جائے، کسی کو نہ کی جائے۔
9: یہاں پھر رحمت سے مراد نبوت ہے، اور مطلب یہ ہے کہ نبوت تو بہت اعلی درجے کی چیز ہے اس کی تقسیم کا کام ان لوگوں کے حوالے کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دنیا کا مال و دولت اور روزی کے ذرائع جو نبوت سے بہت کم درجے کی چیز ہے ان کی تقسیم بھی ہم نے ان لوگوں کے حوالے نہیں کی، کیونکہ یہ اس کے بھی اہل نہیں تھے، ، بلکہ خود ایسا نظام بنایا ہے جس کے ذریعے ہر شخص کو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے دوسرے کا محتاج بنادیا ہے، اس باہمی احتیاج کی بنیاد پر لوگوں کی آمدنی میں بھی فرق ہے، اور اسی فرق کی بنیاد پر ایک شخص دوسرے کی حاجتیں پوری کرتا ہے ؛ تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں، کا یہی مطلب ہے، اس مسئلے کی مکمل تفصیل کے لئے اس آیت کے تحت تفسیر معارف القرآن کا مطالعہ فرمایا جائے۔