Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 48. Al-Fath · Ayah 18

  1. لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ﴿18﴾

    1. لَقَدْتحقیق
    2. رَضِيَ اللّٰهُراضی ہوا اللہ
    3. عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَمومنوں سے
    4. اِذْجب
    5. يُبَايِعُوْنَكَوہ آپ سے بیعت کررہے تھے
    6. تَحْتَ الشَّجَرَةِدرخت کے نیچے
    7. فَعَلِمَسو اس نے معلوم کرلیا
    8. مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْجو ان کے دلوں میں
    9. فَاَنْزَلَتو اس نے اتاری
    10. السَّكِيْنَةَسکینہ (تسلی)
    11. عَلَيْهِمْان پر
    12. وَاَثَابَهُمْاور بدلہ میں دی انہیں
    13. فَتْحًاایک فتح
    14. قَرِيْبًاقریب
Translation · Aasan Quran
یقینا اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا۔ (15) اس لیے اس نے ان پر سکینت اتار دی، اور ان کو انعام میں ایک قریبی فتح عطا فرما دی۔ (16)
Tafseer · Aasan Quran
15: یہ اسی بیعت رضوان کا ذکر ہے جو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام سے حدیبیہ کے مقام پر ببول کے ایک درخت کے نیچے لی تھی، اور جس کا ذکر سورت کے تعارف میں آچکا ہے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان حضرات نے یہ بیعت دل سے پورے عزم کے ساتھ کی تھی، وہ منافقوں کی طرح جھوٹا عہد کرنے والے نہیں تھے۔ 16: اس سے مراد خیبر کی فتح ہے، اس سے پہلے مسلمان دو طرفہ خطرے سے دوچار تھے، جنوب میں قریش مکہ کی طرف سے ہر وقت حملوں کا خطرہ رہتا تھا جس کا سد باب حدیبیہ کی صلح کے ذریعے ہوا، اور شمال میں خیبر کے یہودی تھے جو ہر وقت مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہتے تھے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ مسلمانوں نے حدیبیہ کے موقع پر جس جاں نثاری اور پھر اطاعت کے جذبے کا مظاہرہ کیا، اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں خیبر کی فتح عطا فرمادی جس سے ایک طرف شمالی خطرے کا سد باب ہوگا اور دوسری طرف بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے قبضے میں آئے گا، اور اس کے نتیجے میں معاشی خوش حالی حاصل ہوگی۔