Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 32

  1. مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ﴿32﴾

    1. مِنْسے
    2. اَجْلِوجہ
    3. ذٰلِكَاس
    4. كَتَبْنَاہم نے لکھدیا
    5. عَلٰيپر
    6. بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
    7. اَنَّهٗکہ جو۔ جس
    8. مَنْ قَتَلَکوئی قتل کرے
    9. نَفْسًۢاکوئی جان
    10. بِغَيْرِ نَفْسٍکسی جان کے بغیر
    11. اَوْ فَسَادٍیا فساد کرنا
    12. فِي الْاَرْضِزمین (ملک) میں
    13. فَكَاَنَّمَاتو گویا
    14. قَتَلَاس نے قتل کیا
    15. النَّاسَلوگ
    16. جَمِيْعًاتمام
    17. وَمَنْاور جو۔ جس
    18. اَحْيَاهَااس کو زندہ رکھا
    19. فَكَاَنَّمَآتو گویا
    20. اَحْيَااس نے زندہ رکھا
    21. النَّاسَلوگ
    22. جَمِيْعًاتمام
    23. وَاور
    24. لَقَدْ جَآءَتْهُمْان کے پاس آچکے
    25. رُسُلُنَاہمارے رسول
    26. بِالْبَيِّنٰتِروشن دلائل کے ساتھ
    27. ثُمَّپھر
    28. اِنَّبیشک
    29. كَثِيْرًااکثر
    30. مِّنْهُمْان میں سے
    31. بَعْدَ ذٰلِكَاس کے بعد
    32. فِي الْاَرْضِزمین (ملک) میں
    33. لَمُسْرِفُوْنَحد سے بڑھنے والے
Translation · Aasan Quran
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا (25) اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے، مگر اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں ہی کرتے رہے ہیں۔
Tafseer · Aasan Quran
25: مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا احساس مٹ جائے، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہوگا تو وہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی، نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہوجائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہوجاتے ہیں ؛ لہذا قتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے