آسان قرآن
Aasan Quran · 5. Al-Maaida · Ayah 83
وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ﴿83﴾
- وَاِذَااور جب
- سَمِعُوْاسنتے ہیں
- مَآ اُنْزِلَجو نازل کیا گیا
- اِلَىطرف
- الرَّسُوْلِرسول
- تَرٰٓيتو دیکھے
- اَعْيُنَهُمْان کی آنکھیں
- تَفِيْضُبہہ پڑتی ہیں
- مِنَسے
- الدَّمْعِآنسو
- مِمَّااس (وجہ سے)
- عَرَفُوْاانہوں نے پہچان لیا
- مِنَسے۔ کو
- الْحَقِّحق
- يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
- رَبَّنَآاے ہمارے رب
- اٰمَنَّاہم ایمان لائے
- فَاكْتُبْنَاپس ہمیں لکھ لے
- مَعَساتھ
- الشّٰهِدِيْنَگواہ (جمع)
Translation · Aasan Quran
اور جب یہ لوگ وہ کلام سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو چونکہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہوتا ہے، اس لیے تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ وہ آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں۔ (57) (اور) وہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں، لہذا گواہی دینے والوں کے ساتھ ہمارا نام بھی لکھ لیجیے۔
Tafseer · Aasan Quran
57: جب مسلمانوں کو حبشہ سے نکالنے کا مطالبہ لے کر مشرکین مکہ کا وفد نجاشی کے پاس آیا تھا تو اس نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلاکر ان کا موقف سنا تھا، اس موقع پر آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر ابن ابی طالب نے اس کے دربار میں بڑی مؤثر تقریر کی تھی جس سے نجاشی کے دل میں مسلمانوں کی عظمت اور محبت بڑھ گئی اور اسے اندازہ ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ وہی آخری نبی ہیں جن کی پیشینگوئی تورات اور انجیل میں کی گئی تھی، چنانچہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو نجاشی نے اپنے علماء اور راہبوں کا ایک وفد آپ کی خدمت میں بھیجا، آنحضرت ﷺ نے ان کے سامنے سورة یسین کی تلاوت فرمائی جسے سن کر ان لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ یہ کلام اس کلام کے بہت مشابہ ہے جو حضرت عیسیٰ ؑ پر نازل ہوا تھا، چنانچہ سب لوگ مسلمان ہوگئے اور جب یہ واپس حبشہ گئے تو نجاشی نے بھی اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا، ان آیات میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔