Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 57. Al-Hadid · Ayah 20

  1. اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ﴿20﴾

    1. اِعْلَمُوْٓاجان لو
    2. اَنَّمَابیشک
    3. الْحَيٰوةُ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
    4. لَعِبٌکھیل ہے
    5. وَّلَهْوٌاور دل لگی ہے
    6. وَّزِيْنَةٌاور زینت ہے
    7. وَّتَفَاخُرٌۢاور باہم فخر کرنا
    8. بَيْنَكُمْآپس میں
    9. وَتَكَاثُرٌاور ایک دوسرے سے کثرت حاصل کرنا
    10. فِي الْاَمْوَالِمال میں
    11. وَالْاَوْلَادِ ۭاور اولاد میں
    12. كَمَثَلِ غَيْثٍمانند مثال ایک بارش کے ہے
    13. اَعْجَبَ الْكُفَّارَخوش کیا کسانوں کو
    14. نَبَاتُهٗاس کی نباتات نے
    15. ثُمَّ يَهِيْجُپھر وہ خشک ہوجاتی ہے
    16. فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّاپھر تم دیکھتے ہو اس کو کہ زرد ہوگئی
    17. ثُمَّ يَكُوْنُپھر وہ ہوجاتی ہے
    18. حُطَامًا ۭریزہ ریزہ
    19. وَفِي الْاٰخِرَةِاور آخرت میں
    20. عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙسخت عذاب ہے
    21. وَّمَغْفِرَةٌاور بخشش
    22. مِّنَ اللّٰهِاللہ کی طرف سے
    23. وَرِضْوَانٌ ۭاور رضا مندی
    24. وَمَااور نہیں
    25. الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآدنیا کی زندگی
    26. اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِمگر دھوکے کا سامان
Translation · Aasan Quran
خوب سمجھ لو کہ اس دنیا والی زندگی کی حقیقت بس یہ ہے کہ وہ نام ہے کھیل کود کا، ظاہری سجاوٹ کا، تمہارے ایک دوسرے پر فخر جتانے کا، اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنے کا۔ (16) اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش جس سے اگنے والی چیزیں کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہیں، پھر وہ اپنا زور دکھاتی ہیں، پھر تم اس کو دیکھتے ہو کہ زرد پڑگئی ہے، پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں (ایک تو) سخت عذاب ہے، اور (دوسرے) اللہ کی طرف سے بخشش ہے، اور خوشنودی، او دنیا والی زندگی دھکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
16: یہاں اللہ تعالیٰ نے ان دلچسپیوں کا ذکر فرمایا ہے، جن سے انسان اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں میں دل لگاتا ہے، بچپن میں ساری دلچسپی کھیل کود سے ہوتی ہے، اور جوانی کے دور میں زیب وزینت اور سجاوٹ کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور اس زیب وزینت اور دنیا کے ساز و سامان میں ایک دوسرے کے سامنے اپنی برتری جتانے اور اس پر فخر کرنے کا ذوق ہوتا ہے، پھر بڑھاپے میں مال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کو ہی انسان دلچسپی کا مرکز بنالیتا ہے، اور ہر مرحلے میں انسان جس چیز کو اپنی دلچسپی کی معراج سمجھتا ہے اگلے مرحلے میں وہ بےحقیقت معلوم ہونے لگتی ہے ؛ بلکہ بعض اوقات انسان اس پر ہنستا ہے کہ میں نے کس چیز کو اپنی زندگی کا حاصل سمجھا ہوا تھا، آخرت میں پہنچ کر انسان کو پتہ چلے گا کہ یہ ساری دلچسپیاں بےحقیقت تھیں اور اصل حاصل کرنے کی چیز تو یہ آخرت کی خوش حالی تھی۔