Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 57. Al-Hadid · Ayah 25

  1. لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠﴿25﴾

    1. لَقَدْ اَرْسَلْنَاالبتہ تحقیق بھیجا ہم نے
    2. رُسُلَنَااپنے رسولوں کو
    3. بِالْبَيِّنٰتِساتھ روشن نشانیوں کے
    4. وَاَنْزَلْنَااور اتارا ہم نے
    5. مَعَهُمُ الْكِتٰبَان کے ساتھ کتاب کو
    6. وَالْمِيْزَانَاور میزان کو
    7. لِيَقُوْمَ النَّاسُتاکہ قائم ہوں لوگ
    8. بِالْقِسْطِ ۚانصاف پر
    9. وَاَنْزَلْنَااور اتارا ہم نے
    10. الْحَدِيْدَلوہا
    11. فِيْهِ بَاْسٌاس میں زور ہے
    12. شَدِيْدٌسخت
    13. وَّمَنَافِعُاور فائدے ہیں
    14. لِلنَّاسِلوگوں کے لیے
    15. وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُاور تاکہ جان لے اللہ
    16. مَنْ يَّنْصُرُهٗکون مدد کرتا ہے اس کی
    17. وَرُسُلَهٗاور اس کے رسولوں کی
    18. بِالْغَيْبِ ۭساتھ غیب کے
    19. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ تعالیٰ
    20. قَوِيٌّ عَزِيْزٌقوت والا ہے، زبردست ہے
Translation · Aasan Quran
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی نشانیاں دے کر بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب بھی اتاری، اور ترازو بھی، (20) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں، اور ہم نے لوہا اتارا جس میں جنگی طاقت بھی ہے اور لوگوں کے لیے دوسرے فائدے بھی، (21) اور یہ اس لیے تاکہ اللہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر اس (کے دین) کی اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتا ہے۔ یقین رکھو کہ اللہ بڑی قوت کا، بڑے اقتدار کا مالک ہے۔ (22)
Tafseer · Aasan Quran
20: ترازو اصل میں اس آلے کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز تولی جائے، اس کو اتارنے کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترازو پیدا کی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق انصاف سے کام لینے کا حکم دیا ہے۔ اور درحقیقت انبیائے کرام اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ ترازو کا ذکر کرنے سے اشارہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر توازن اور اعتدال سے کام لے، اور یہی توازن اور اعتدال انبیائے کرام اور آسمانی کتابوں کی تعلیمات میں پایا جاتا ہے۔ 21: لوہا ان دھاتوں میں سے ہے جس کی ہر صنعت میں ضرورت پڑتی ہے، اس لیے اس کی تخلیق بذات خود اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، لیکن انبیائے کرام، آسمانی کتابوں اور ترازو کے بعد اس کو ذکر فرما کر اشارہ یہ دیا گیا ہے کہ انسانوں کی اصلاح کا اصل ذریعہ انبیائے کرام اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کی تعلیمات ہیں، ان پر ٹھیک ٹھیک عمل ہوجائے تو دنیا میں انصاف قائم ہوسکتا ہے، لیکن شر کی بہت سی طاقتیں ایسی ہیں جو ان تعلیمات سے سدھرنے کے بجائے بگڑی ہی رہتی ہیں، اور انصاف قائم کرنے کے بجائے فساد پھیلاتی ہیں، ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے لوہا اتارا ہے جس سے جنگی طاقت کا سامان تیار ہوتا ہے، اور آخر میں جہاد کے لیے اسے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ 22: یعنی اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اس کا اقتدار اتنا بڑا ہے کہ اسے شر کی طاقتوں کو کچلنے کے لیے کسی انسان کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس نے انسانوں کو جہاد کا مکلف اس لیے فرمایا ہے تاکہ ان کی آزمائش ہو، اور یہ بات نکھر کر سامنے آجائے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں جان کی بازی لگاتا ہے، اور کون ہے جو سرکشی اختیار کرتا ہے۔