Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 12

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿12﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. اٰمَنُوْٓامومن
    4. اِذَاجب
    5. نَاجَيْتُمُتم کان میں بات کرو
    6. الرَّسُوْلَرسول
    7. فَقَدِّمُوْاتو تم دے دو
    8. بَيْنَ يَدَيْپہلے
    9. نَجْوٰىكُمْاپنے سرگوشی
    10. صَدَقَةً ۭکچھ صدقہ
    11. ذٰلِكَیہ
    12. خَيْرٌ لَّكُمْبہتر تمہارے لئے
    13. وَاَطْهَرُ ۭاور زیادہ پاکیزہ
    14. فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْاپھر اگر تم نہ پاؤ
    15. فَاِنَّ اللّٰهَتو بیشک اللہ
    16. غَفُوْرٌبخشنے والا
    17. رَّحِيْمٌرحم کرنے والا
Translation · Aasan Quran
اے ایمان والو ! جب تم رسول سے تنہائی میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس تنہائی کی بات سے پہلے کچھ صدقہ کردیا کرو۔ (8) یہ طریقہ تمہارے حق میں بہتر اور زیادہ ستھرا طریقہ ہے۔ ہاں اگر تمہارے پاس (صدقہ کرنے کے لیے) کچھ نہ ہو تو اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
8: جو لوگ حضور اقدس ﷺ سے تنہائی میں بات کرنے کا وقت مانگتے تھے، بعض اوقات وہ غیر ضرور طور پر آپ کا زیادہ وقت لے لیتے تھے، چونکہ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص آپ سے بات کرتا تو خود سے اس کی بات نہیں کاٹتے تھے، اس لیے بعض لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے جن میں کچھ منافقین بھی شامل تھے۔ چنانچہ اس آیت نے یہ حکم دیا تھا کہ جو کوئی شخص آپ سے تنہائی میں بات کرنا چاہے، وہ پہلے کچھ غریبوں کو صدقہ خیرات کر کے آئے۔ البتہ ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا تھا کہ اگر کسی کے پاس صدقہ کرنے کی استطاعت نہ ہو تو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ صدقے کی کوئی مقدار متعین نہیں فرمائی گئی تھی۔ چنانچہ حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے کچھ تنہائی کا وقت لیا تو ایک دینار صدقہ کیا تھا۔ اس کی ایک مصلحت یہ تھی کہ وہی لوگ تنہائی میں آپ کا وقت لیں جنہیں واقعی ضرورت ہو۔ اگلی آیت میں اس حکم کو منسوخ کردیا گیا جیسا کہ اگلے حاشیہ میں آرہا ہے۔