Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 8

  1. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿8﴾

    1. اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
    2. اِلَى الَّذِيْنَان لوگوں کو جنہیں
    3. نُهُوْامنع کیا گیا
    4. عَنِ النَّجْوٰىسرگوشی سے
    5. ثُمَّ يَعُوْدُوْنَپھر وہ (وہی) کرتے ہیں
    6. لِمَاوہ (بات) جو
    7. نُهُوْامنع کیا گیا انہیں
    8. عَنْهُاس سے
    9. وَيَتَنٰجَوْنَوہ باہم سرگوشی کرتے ہیں
    10. بِالْاِثْمِگناہ سے، کی
    11. وَالْعُدْوَانِاور سرکشی
    12. وَمَعْصِيَتِاور نافرمانی
    13. الرَّسُوْلِ ۡرسول
    14. وَاِذَااور جب
    15. جَآءُوْكَوہ آتے ہیں آپ کے پاس
    16. حَيَّوْكَآپکو سلام دعا دیتے ہیں
    17. بِمَاجن سے
    18. لَمْ يُحَيِّكَآپ کو دعا نہیں دی
    19. بِهِ اللّٰهُ ۙاس (لفظ) سے اللہ
    20. وَيَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
    21. فِيْٓ اَنْفُسِهِمْاپنے دل (جمع) میں
    22. لَوْلَاکیوں نہیں
    23. يُعَذِّبُنَاہمیں عذاب دیتا
    24. اللّٰهُاللہ
    25. بِمَااس کی جو
    26. نَقُوْلُ ۭہم کہتے ہیں
    27. حَسْبُهُمْان کے لئے کافی ہے
    28. جَهَنَّمُ ۚجہنم
    29. يَصْلَوْنَهَا ۚوہ ڈالے جائیں گے اس میں
    30. فَبِئْسَسو بُرا
    31. الْمَصِيْرُٹھکانا
Translation · Aasan Quran
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں سرگوشی کرنے سے منع کردیا گیا تھا، پھر بھی وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟ اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسی سرگوشیاں کرتے ہیں جو گناہ، زیادتی اور رسول کی نافرمانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اور (اے پیغمبر) جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں ایسے طریقے سے سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا، (5) اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ : ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دے دیتا ؟ (6) جہنم ہی ان (کی خبر لینے) کے لیے کافی ہے، وہ اسی میں جا پہنچیں گے، اور وہ پہنچنے کی بہت بری جگہ ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
5: یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ جب وہ مسلمانوں سے ملتے تو السلام علیکم کہنے کے بجائے السام علیکم کہتے تھے، السلام علیکم کے معنی ہیں تم پر سلامتی ہو اور السام علیکم کے معنی ہیں کہ تم پر ہلاکت ہو، چونکہ دونوں لفظوں میں صرف ایک لام کا فرق ہے اس لئے بولتے وقت سننے والے خیال بھی نہیں کرتے تھے، لیکن وہ لوگ اس طرح اپنے بغض کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس آیت میں ان کی اسی شرارت کی طرف اشارہ ہے۔ 6: اپنی مذکورہ شرارتوں کے بعد وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری یہ باتیں غلط ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر سزا کیوں نہیں دیتا اور چونکہ ہم پر کوئی سزا مسلط نہیں ہورہی ہے، اس لئے ثابت ہوا کہ ہم برحق ہیں۔