Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 59. Al-Hashr · Ayah 2

  1. هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ﴿2﴾

    1. هُوَوہی ہے
    2. الَّذِيْٓجس نے
    3. اَخْرَجَنکالا
    4. الَّذِيْنَجن لوگوں نے
    5. كَفَرُوْاکفر کیا
    6. مِنْسے، کے
    7. اَهْلِ الْكِتٰبِاہل کتاب
    8. مِنْ دِيَارِهِمْان کے گھروں سے
    9. لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ڼپہلے اجتماع (لشکر) پر
    10. مَا ظَنَنْتُمْتمہیں گمان نہ تھا
    11. اَنْ يَّخْرُجُوْاکہ وہ نکلیں گے
    12. وَظَنُّوْٓااور وہ خیال کرتے تھے
    13. اَنَّهُمْکہ وہ
    14. مَّانِعَتُهُمْانہیں بچالیں گے
    15. حُصُوْنُهُمْان کے قلعے
    16. مِّنَ اللّٰهِاللہ سے
    17. فَاَتٰىهُمُتو ان پر آیا
    18. اللّٰهُاللہ
    19. مِنْ حَيْثُجہاں سے
    20. لَمْ يَحْتَسِبُوْا ۤانہیں گمان نہ تھا
    21. وَقَذَفَاور اس نے ڈالا
    22. فِيْ قُلُوْبِهِمُان کے دلوں میں
    23. الرُّعْبَرعب
    24. يُخْرِبُوْنَوہ برباد کرنے لگے
    25. بُيُوْتَهُمْاپنے گھر
    26. بِاَيْدِيْهِمْاپنے ہاتھوں سے
    27. وَاَيْدِياور ہاتھوں
    28. الْمُؤْمِنِيْنَ ۤمومنوں
    29. فَاعْتَبِرُوْاتو تم عبرت پکڑو
    30. يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِاے نگاہ والو
Translation · Aasan Quran
وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافر لوگوں کو ان کے گھروں سے پہلے اجتماع کے موقع پر نکال دیا۔ (1) (مسلمانو) تمہیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ وہ نکلیں گے، اور وہ بھی یہ سمجھے ہوئے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچا لیں گے۔ پھر اللہ ان کے پاس ایسی جگہ سے آیا جہاں ان کا گمان بھی نہیں تھا، اور اللہ نے ان کے د لوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھ سے بھی اجاڑ رہے تھے۔ (2) لہذا اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو۔
Tafseer · Aasan Quran
1: پہلے اجتماع کا مطلب بعض مفسرین نے یہ بتلایا ہے کہ اس سے مسلمانوں کا لشکر مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان سے جنگ کرنی نہیں پڑی، بلکہ پہلے اجتماع ہی پر وہ قابو میں آگئے، لیکن بیشتر مفسرین نے اس کی یہ تفسیر کی ہے کہ اس سے مراد جلاوطنی کے لئے بنو نضیر کا اجتماع ہے، اور مطلب یہ ہے کہ یہ ان یہودیوں کے لئے پہلا موقع تھا کہ وہ جلا وطنی کے لئے جمع ہوئے ہوں، اس سے پہلے کبھی ان کو ایسے اجتماع کا موقع پیش نہیں آیا تھا، اور اس لفظ میں ایک لطیف اشارہ یہ بھی ہے کہ یہ بنو نضیر کی پہلی جلا وطنی تھی، اس کے بعد ان کو ایک اور جلا وطنی سے بھی سابقہ پیش آئے گا ؛ چنانچہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ان کو دوبارہ خیبر سے جلا وطن فرمایا۔ 2: چونکہ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو اجازت دی تھی کہ جتنا مال وہ اپنے ساتھ لے جاسکیں، ساتھ لے جائیں، اس لیے ان لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے تک اکھاڑ لیے تھے۔