آسان قرآن
Aasan Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 122
اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿122﴾
- اَوَکیا
- مَنْجو
- كَانَ مَيْتًامردہ تھا
- فَاَحْيَيْنٰهُپھر ہم نے اس کو زندہ کیا
- وَجَعَلْنَااور ہم نے بنایا
- لَهٗاس کے لیے
- نُوْرًانور
- يَّمْشِيْوہ چلتا ہے
- بِهٖاس سے
- فِيمیں
- النَّاسِلوگ
- كَمَنْ مَّثَلُهٗاس جیسا۔ جو
- فِيمیں
- الظُّلُمٰتِاندھیرے
- لَيْسَنہیں
- بِخَارِجٍنکلنے والا
- مِّنْهَااس سے
- كَذٰلِكَاسی طرح
- زُيِّنَزینت دئیے گئے
- لِلْكٰفِرِيْنَکافروں کے لیے
- مَاجو
- كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے (عمل)
Translation · Aasan Quran
ذرا بتاؤ کہ جو شخص مردہ ہو، پھر ہم نے اسے زندگی دی ہو، اور اس کو ایک روشنی مہیا کردی ہو جس کے سہارے وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو (54) کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ وہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہو جن سے کبھی نکل نہ پائے ؟ اسی طرح کافروں کو یہ سجھا دیا گیا ہے وہ جو کچھ کرتے رہے ہیں، وہ بڑا خوشنما کام ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
54: یہاں روشنی سے مراد اسلام کی روشنی ہے اور لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو فرما کر اشارہ اس طرف کردیا گیا ہے کہ اسلام کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ انسان مذہبی عبادات کو لے کر دنیا سے ایک طرف ہو کر بیٹھ جائے اور لوگوں سے میل جول چھوڑدے ؛ بلکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عام انسانوں کے درمیان رہے، ان سے ضروری معاملات کرے، ان کے حقوق ادا کرے ؛ لیکن جہاں بھی جائے اسلام کی روشنی ساتھ لے جائے، یعنی یہ سارے معاملات اسلامی احکام کے تحت انجام دے۔