آسان قرآن
Aasan Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 123
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ﴿123﴾
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- جَعَلْنَاہم نے بنائے
- فِيْمیں
- كُلِّہر
- قَرْيَةٍبستی
- اَكٰبِرَبڑے
- مُجْرِمِيْهَااس کے مجرم
- لِيَمْكُرُوْاتاکہ وہ حیلے کریں
- فِيْهَااس میں
- وَمَااور نہیں
- يَمْكُرُوْنَوہ حیلے کرتے
- اِلَّامگر
- بِاَنْفُسِهِمْاپنی جانوں پر
- وَمَااور نہیں
- يَشْعُرُوْنَوہ شعور رکھتے
Translation · Aasan Quran
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے مجرموں کے سرغنوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اس (بستی) میں (مسلمانوں کے خلاف) سازشیں کیا کریں۔ (55) اور وہ جو سازشیں کرتے ہیں، (درحقیقت) وہ کسی اور کے نہیں، بلکہ خود ان کے اپنے خلاف پڑتی ہیں، جبکہ ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔
Tafseer · Aasan Quran
55: یہ مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ کافر لوگ ان کے خلاف جو سازشیں کررہے ہیں ان سے گھبرائیں نہیں اس قسم کی سازشیں ہر دور میں انبیاء کرام اور ان کے ماننے والوں کے خلاف ہوتی رہی ہیں ؛ لیکن بالآخر انجام اہل ایمان ہی کا بہتر ہوتا ہے اور دشمنوں کی سازشیں آخر کار خود انہی کو نقصان پہنچاتی ہیں، کبھی تو اسی دنیا میں ان کا یہ نقصان ظاہر ہوجاتا ہے اور کبھی دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا ؛ لیکن آخرت میں ان کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے خود اپنے حق میں کانٹے بوئے تھے۔