آسان قرآن
Aasan Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 141
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ﴿141﴾
- وَهُوَاور وہ
- الَّذِيْٓجس نے
- اَنْشَاَپیدا کیے
- جَنّٰتٍباغات
- مَّعْرُوْشٰتٍچڑھائے ہوئے
- وَّاور
- غَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍنہ چڑھائے ہوئے
- وَّالنَّخْلَاور کھجور
- وَالزَّرْعَاور کھیتی
- مُخْتَلِفًامختلف
- اُكُلُهٗاس کے پھل
- وَالزَّيْتُوْنَاور زیتون
- وَالرُّمَّانَاور انار
- مُتَشَابِهًامشابہ (ملتے جلتے)
- وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍاور غیر مشابہ (جدا جدا)
- كُلُوْاکھاؤ
- مِنْسے
- ثَمَرِهٖٓاس کے پھل
- اِذَآجب
- اَثْمَرَوہ پھل لائے
- وَاٰتُوْااور ادا کرو
- حَقَّهٗاس کا حق
- يَوْمَ حَصَادِهٖاس کے کاٹنے کے دن
- وَلَا تُسْرِفُوْااور بیجا خرچ نہ کرو
- اِنَّهٗبیشک وہ
- لَا يُحِبُّپسند نہیں کرتا
- الْمُسْرِفِيْنَبیجا خرچ کرنے والے
Translation · Aasan Quran
اللہ وہ ہے جس نے باغات پیدا کیے جن میں سے کچھ (بیل دار ہیں جو) سہاروں سے اوپر چڑھائے جاتے ہیں، اور کچھ سہاروں کے بغیر بلند ہوتے ہیں، اور نخلستان اور کھیتیاں، جن کے ذائقے الگ الگ ہیں، اور زیتون اور انار، جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں، اور ایک دوسرے سے مختلف بھی۔ (72) جب یہ درخت پھل دیں تو ان کے پھلوں کو کھانے میں استعمال کرو، اور جب ان کی کٹائی کا دن آئے تو اللہ کا حق ادا کرو، (73) اور فضول خرچی نہ کرو۔ یاد رکھو، وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔
Tafseer · Aasan Quran
72: تشریح کے لیے دیکھئے پیچھے آیت نمبر 99 کا حاشیہ
73: اس سے مراد عشر ہے جو زرعی پیداوار پر واجب ہوتا ہے مکی زندگی میں اس کی کوئی خاص شرح مقرر نہیں تھی، بلکہ جب کٹائی کا وقت آتا تو کھیتی کے مالک پر فرض تھا کہ جو فقراء اس وقت موجود ہوں ان کو اپنی صوابدید کے مطابق کچھ دے دیا کرے، مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد اس کے مفصل احکام آئے اور آنحضرت ﷺ نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ بارانی زمینوں پر پیداوار کا دسواں حصہ اور نہری زمینوں پر بیسواں حصہ غریبوں کا حق ہے، آیت نے بتایا ہے کہ یہ حق کٹائی ہی کے وقت ادا کردینا چاہیے۔