آسان قرآن
Aasan Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 8
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ﴿8﴾
- وَقَالُوْااور وہ کہتے ہیں
- لَوْکیوں
- لَآ اُنْزِلَنہیں اتارا گیا
- عَلَيْهِاس پر
- مَلَكٌفرشتہ
- وَلَوْاور اگر
- اَنْزَلْنَاہم اتارتے
- مَلَكًافرشتہ
- لَّقُضِيَتو تمام ہوگیا ہوتا
- الْاَمْرُکام
- ثُمَّپھر
- لَا يُنْظَرُوْنَانہیں مہلت نہ دی جاتی
Translation · Aasan Quran
اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ : اس (پیغمبر) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو سارا کام ہی تمام ہوجاتا (3) پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جاتی
Tafseer · Aasan Quran
3: یہ دنیا چونکہ انسان کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہے، اس لیے انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر اللہ تعالیٰ پر اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں پر ایمان لائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی غیبی حقیقت آنکھوں سے دکھا دی جاتی ہے تو اس کے بعد ایمان لانا معتبر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص موت کے فرشتوں کو دیکھ کر ایمان لائے تو اس کا ایمان قابل قبول نہیں۔ کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر کوئی فرشتہ آنحضرت ﷺ پر وحی لے کر آتا ہے تو وہ اس طرح آئے کہ ہم اسے دیکھ سکیں۔ قرآن کریم نے اس کا پہلا جواب تو یہ دیا ہے کہ اگر فرشتے کو انہوں نے آنکھ سے دیکھ لیا تو پھر مذکورہ بالا اصول کے مطابق ان کا ایمان معتبر نہیں ہوگا اور پھر انہیں اتنی مہلت نہیں ملے گی کہ یہ ایمان لاسکیں دوسرا جواب اگلے جملے میں ہے۔