Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 95

  1. اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ﴿95﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. اللّٰهَاللہ
    3. فَالِقُچیرنے والا
    4. الْحَبِّدانہ
    5. وَالنَّوٰىاور گٹھلی
    6. يُخْرِجُنکالتا ہے
    7. الْحَيَّزندہ
    8. مِنَسے
    9. الْمَيِّتِمردہ
    10. وَمُخْرِجُاور نکالنے والا ہے
    11. الْمَيِّتِمردہ
    12. مِنَسے
    13. الْحَيِّزندہ
    14. ذٰلِكُمُیہ ہے تمہارا
    15. اللّٰهُاللہ
    16. فَاَنّٰىپس کہاں
    17. تُؤْفَكُوْنَتم بہکے جارہے ہو
Translation · Aasan Quran
بیشک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ جاندار چیزوں کو بےجان چیزوں سے نکال لاتا ہے، اور وہی بےجان چیزوں کو جاندار چیزوں سے نکالنے والا ہے۔ (35) لوگو ! وہ ہے اللہ پھر کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لئے جارہا ہے ؟ (36)
Tafseer · Aasan Quran
35: بےجان سے جاندار کو نکالنے کی مثال یہ ہے کہ انڈے سے مرغی نکل آتی ہے اور جاندار سے بےجان کے نکلنے کی مثال جیسے مرغی سے انڈا 36: اس ترجمے میں دو باتیں قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ بظاہر قرآن کریم میں ”لوگوں !“ کا لفظ نظر نہیں آ رہا، لیکن در حقیقت یہ ذلکم میں جمع مخاطب کی ضمیر کا ترجمہ ہے۔ عربی کے قاعدے سے یہ جمع کی ضمیر مشار الیہ کی جمع نہیں ہوتی، بلکہ مخاطب کی جمع ہوتی ہے۔ دوسرے ”کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لیے جا رہا ہے“ اس ترجمے میں ”توفکون“ کے صیغہ مجہول کی رعایت کی گئی ہے۔ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ یہ ان کی خواہشات ہیں جو انہیں گمراہ کر رہی ہیں۔