Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 10

  1. وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿10﴾

    1. وَمَااور نہیں
    2. جَعَلَهُبنایا اسے
    3. اللّٰهُاللہ
    4. اِلَّامگر
    5. بُشْرٰيخوشخبری
    6. وَلِتَطْمَئِنَّتاکہ مطمئن ہوں
    7. بِهٖاس سے
    8. قُلُوْبُكُمْتمہارے دل
    9. وَمَااور نہیں
    10. النَّصْرُمدد
    11. اِلَّامگر
    12. مِنْسے
    13. عِنْدِ اللّٰهِاللہ کے پاس
    14. اِنَّبیشک
    15. اللّٰهَاللہ
    16. عَزِيْزٌغالب
    17. حَكِيْمٌحکمت والا
Translation · Aasan Quran
اور یہ وعدہ اللہ نے کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس لیے کیا کہ وہ خوشخبری بنے اور تاکہ تمہارے دلوں کو اطمینان حاصل ہو، ورنہ مدد کسی اور کے پاس سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے۔ (4) یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
Tafseer · Aasan Quran
4:: یعنی اللہ تعالیٰ کو مدد کرنے کے لئے فرشتے بھیجنے کی حقیقت میں ضرورت نہیں تھی، نہ فرشتوں میں کوئی ذاتی طاقت ہے کہ وہ مدد کرسکیں، مدد تو اللہ تعالیٰ براہ راست بھی کرسکتا تھا، لیکن یہ انسان کی فطرت ہے کہ جس چیز کے اسباب سامنے ہوں اس پر اسے زیادہ اطمینان اور خوشی حاصل ہوتی ہے، اس لئے یہ وعدہ کیا گیا تھا، اس آیت نے یہ سبق دیا ہے کہ کسی کام کے جو اسباب بھی اختیار کئے جائیں ایک مومن کو یہ بات ہر آن سامنے رکھنی چاہیے کہ یہ اسباب اللہ تعالیٰ ہی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور ان میں تاثیر اسی کے حکم سے پیدا ہوتی ہے، لہذا بھروسہ اسباب پر نہیں بلکہ اسی کے فضل و کرم پر کرنا چاہیے۔