Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 80. Abasa · Ayah 1

  1. عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ﴿1﴾

    1. عَبَسَترش رو ہوا
    2. وَتَوَلّىٰٓاور منہ موڑا
Translation · Aasan Quran
(پیغمبر نے) منہ بنایا، اور رخ پھیرلیا۔ (1)
Tafseer · Aasan Quran
1: یہ آیات ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی تھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن حضور سرور دو عالم ﷺ قریش کے کچھ بڑے بڑے سرداروں کو اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اور ان سے گفتگو میں مشغول تھے کہ اتنے میں آپ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ وہاں آگئے، اور چونکہ وہ نابینا تھے، اس لیے یہ نہ دیکھ سکے کہ آپ کن کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں، چنانچہ انہوں نے آتے ہی آنحضرت ﷺ سے کچھ سکھانے کی درخواست شروع کردی۔ آنحضرت ﷺ کو ان کا یہ طریقہ پسند نہ آیا کہ دوسروں کی بات کاٹ کر انہوں نے بیچ میں مداخلت شروع کردی۔ اس لیے آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، اور آپ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے ان کافروں کے ساتھ اپنی گفتگو جاری رکھی۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو یہ سورت نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ کے اس طریقے پر اللہ تعالیٰ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ منہ بنانے کو عربی میں ”عبس“ کہتے ہیں، چونکہ یہ سورت اسی لفظ سے شروع ہوئی ہے، اس لیے اس کا نام ”عبس“ ہے اور اس میں بنیادی تعلیم یہ دی گئی ہے کہ جو شخص دل میں حق کی طلب رکھتا ہو، اور سچے دل سے اپنی اصلاح چاہتا ہو، وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کو وقت دیا جائے۔ اس کے برخلاف جن لوگوں کے دل میں حق کی طلب ہی نہیں ہے، اور وہ اپنی کسی اصلاح کی ضرورت نہیں سمجھتے، حق کے طلبگاروں سے منہ موڑ کر انہیں ترجیح نہیں دینی چاہیے۔