آسان قرآن
Aasan Quran · 9. At-Tawba · Ayah 23
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿23﴾
- يٰٓاَيُّھَااے
- الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاوہ لوگ جو ایمان لائے (ایمان والے)
- لَا تَتَّخِذُوْٓاتم نہ بناؤ
- اٰبَآءَكُمْاپنے باپ دادا
- وَاِخْوَانَكُمْاور اپنے بھائی
- اَوْلِيَآءَرفیق
- اِنِاگر
- اسْتَحَبُّواوہ پسند کریں
- الْكُفْرَکفر
- عَلَي الْاِيْمَانِایمان پر (ایمان کے خلاف)
- وَاور
- مَنْجو
- يَّتَوَلَّهُمْدوستی کریگا ان سے
- مِّنْكُمْتم میں سے
- فَاُولٰٓئِكَتو وہی لوگ
- هُمُوہ
- الظّٰلِمُوْنَظالم (جمع)
Translation · Aasan Quran
اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ بھائی کفر کو ایمان کے مقابلے میں ترجیح دیں تو ان کو اپنا سرپرست نہ بناؤ (17)۔ اور جو لوگ ان کو سرپرست بنائیں گے وہ ظالم ہوں گے۔
Tafseer · Aasan Quran
17: اسکا مطلب یہ ہے کہ ان سے ایسے تعلقات نہ رکھو جو تمہارے لئے دینی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بن جائیں، جہاں تک اپنے ایمان اور دینی فرائض کا تحفظ کرتے ہوئے ان کے ساتھ حسن سلوک کا تعلق ہے اس کو قرآن کریم نے مستحسن قراردیا ہے۔ (دیکھئے سورة لقمان 15:31 اور سورة ممتحنہ 8:60)