Surah Introduction

آسان قرآن

Aasan Quran · 9. At-Tawba · Ayah 95

  1. سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿95﴾

    1. سَيَحْلِفُوْنَاب قسمیں کھائیں گے
    2. بِاللّٰهِاللہ کی
    3. لَكُمْتمہارے آگے
    4. اِذَاجب
    5. انْقَلَبْتُمْواپس جاؤ گے تم
    6. اِلَيْهِمْان کی طرف
    7. لِتُعْرِضُوْاتاکہ تم در گزر کرو
    8. عَنْھُمْان سے
    9. فَاَعْرِضُوْاسو تم منہ موڑ لو
    10. عَنْھُمْان سے
    11. اِنَّھُمْبیشک وہ
    12. رِجْسٌپلید
    13. وَّمَاْوٰىھُمْاور ان کا ٹھکانہ
    14. جَهَنَّمُجہنم
    15. جَزَآءًبدلہ
    16. بِمَااس کا جو
    17. كَانُوْا يَكْسِبُوْنَوہ کماتے تھے
Translation · Aasan Quran
جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ لہذا تم بھی ان سے درگزر کرلینا۔ (73) یقین جانو یہ سراپا گندگی ہیں، اور جو کمائی یہ کرتے رہے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
73: یہاں ”در گذر کرنے“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بات سن کر انہیں نظر انداز کردیا جائے، نہ تو فوری پر انہیں کوئی سزا دی جائے۔ اور نہ یہ وعدہ کیا جائے کہ ان کی معذرت قبول کرلی گئی ہے۔ اور انہیں معاف کردیا گیا ہے۔ اس طرز عمل کی وجہ اگلے جملے میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اپنے نفاق کی وجہ سے یہ سراپا گندگی ہیں، ان کی معذرت جھوٹی ہے جو انہیں اس گندگی سے پاک نہیں کرسکتی، اور آخر کار ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔