Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Waaqia : 46
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
اور جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے۔
12۔ 15۔ اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر فرما کر اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بد لوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے تو نہیں دیکھا لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھ کے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف انکے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکاوے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا ‘ نیک کام کرنا ‘ جو کچھ کرتے ہیں دنیا کے دکھاوے کی نیت سے نہیں کرتے بلکہ محض ثواب آخرت کی نیت سے کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی نیت پوری کرے گا اور عقبیٰ میں بہت بڑا ثواب ان کو عنایت فرمائے گا ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ تم چپکے سے چھپا کر بات کرو یا پکار کر بات کرو اللہ تعالیٰ کو سب دل کا بھید تک معلوم ہے حضرت عبد اللہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ مکہ کے مشرک اسلام کی اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں میں ندمت کرتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ چپکے چپکے باتیں کرو ایسا نہ ہو کہ محمد ﷺ کا خدا ہماری باتیں سن لے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو تو دل کا بھید معلوم ہے اس سے کوئی بات کس طرح چھپی رہ سکتی ہے لطیف وہ جس پر کوئی چیز مخفی نہ رہے۔ مناکب کے معنی اطراف ‘ آخر آیت کے حاصل معنی یہ ہیں کہ باوجود اس کے کہ زمین میں سخت پہاڑ ہیں لیکن ان میں گھاٹیاں ایسی نرم اور گزر کے قابل رکھ دی گئی ہیں جس کے سبب سے اطراف کی بستیوں میں تجارت کے لئے سفر کرنا آسان ہے اب جو چاہے تجارت کے لئے سفر کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو رزق ہر ایک کی تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ کھائے اور اپنی زندگی بسر کرے اہل مکہ کی گزر تجارت پر ہی تھی اس لئے خاص طور پر تجارت کے لئے اس پہاڑی ملک میں راتوں کے آسان ہوجانے کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد حشر کا ذکر اس لئے فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ آدمی کے گزر کے سب انتظام کھیل کے طور پر نہیں کئے گئے ہیں بلکہ اس واسطے کئے گئے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ان انتظاموں سے تا زیست نفع اٹھا کر اس کے شکریہ میں کچھ نیک کام کرے گا تو اس نیکی کے ثمرہ کا اور بر کام کرے گا تو اس کی پرسش کا ایک دن ہے ‘ اسی دن کا نام حشر ہے ہر عقل مند کے نزدیک ایسے ایک دن کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کے سب انتظام جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے کئے ہیں وہ ٹھکانے سے لگیں لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے ان سب انتظاموں کے بےٹھکانہ ٹھہرا کر حشر کا منکر ہے اس کی عقل میں فتور ہے اور پھر اپنی قدرت کی چند مثالیں ذکر کرکے قریش کو سمجھایا اور یہ بھی فرمایا کہ باوجود سمجھانے کے یہ لوگ اگر اپنی گمراہی سے باز نہ آئیں گے تو ان سے پہلے بہت سی گمرا ہیں جس طرح عذاب الٰہی سے ہلاک ہوچکی ہیں وہی انجام آخر ان لوگوں کا ہوگا اور جن بتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ بت اللہ کے عذاب سے بچانے میں ان لوگوں کی کچھ مدد نہ کرسکیں گے بعض شیطان کے دھوکے اور فریب سے ان لوگوں کے دل میں یہ بات سما گئی ہے کہ وہ ان کے بت اللہ کے عذاب کے آگے ان لوگوں کو کچھ کام آئیں گے۔
Top