Al-Quran-al-Kareem - Al-Baqara : 240
یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا
يَّرِثُنِيْ : میرا وارث ہو وَيَرِثُ : اور وارث ہو مِنْ : سے۔ کا اٰلِ يَعْقُوْبَ : اولادِ یعقوب وَاجْعَلْهُ : اور اسے بنا دے رَبِّ : اے میرے رب رَضِيًّا : پسندیدہ
جو میرا وارث بنے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب ! اسے پسند کیا ہوا بنا۔
وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا : ”رَضِيًّا“ ”فَعِیْلٌ“ بمعنی ”مَفْعُوْلٌ“ ہے، مطلب پسند کیا ہوا، یعنی وہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں، سب کا پسندیدہ ہو۔ اللہ جسے پسند کرلے لوگ بھی اس سے محبت کرتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِیْلَ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِِبْہُ فَیُحِبُّہٗ جِبْرِیْلُ فَیُنَادِيْ جِبْرِیْلُ فِيْ أَھْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوْہٗ فَیُحِبُّہٗ أَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَہٗ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ) [ بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللّٰہ علیہم : 3209، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل ؑ سے کہتا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل ؑ بھی اس سے محبت کرتے ہیں، پھر جبریل ؑ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتے ہیں، سو تم بھی اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“ 3 زکریا ؑ کی بیٹے کے لیے دعا ایک تو یہاں آئی ہے، ایک سورة آل عمران (38) میں اور ایک سورة انبیاء (89) میں۔ تینوں جگہ ہی الفاظ معانی کا خزینہ اور موتیوں کا نگینہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور بانجھ اور بوڑھی بیوی کو اولاد کے قابل بنا کر یحییٰ ؑ عطا فرما دیے۔ دیکھیے سورة انبیاء (90)۔
Top