Anwar-ul-Bayan - At-Tawba : 71
وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪
وَلَكُمْ : اور تمہارے لیے فِيْهَا : ان میں جَمَالٌ : خوبصورتی۔ شان حِيْنَ : جس وقت تُرِيْحُوْنَ : شام کو چرا کر لاتے ہو وَحِيْنَ : اور جس وقت تَسْرَحُوْنَ : صبح کو چرانے لے جاتے ہو
اور جب شام کو انھیں (جنگل سے) لاتے ہو اور) جب صبح کو (جنگل) چرانے لیجاتے ہو تو ان سے تمہاری عزت وشان ہے۔
(16:6) جمال ۔ رونق۔ جمال۔ زیب و زینت۔ وجاہت۔ تریحون۔ روح (مادہ) سے مشتق ہے۔ یہ مادہ کثیر المشتقات ہے۔ تریحون المراوحۃ سے ہے جس کے معنی دو کاموں کو باری باری کرنے کے ہیں۔ استعارہ کے طور پر رواح سے شام کو آرام کرنے کا وقت مراد لیا جاتا ہے۔ اور اسی سے کہا جاتا ہے۔ ارحنا ابلنا۔ ہم نے اونٹوں کو آرام دیا (یعنی باڑے میں لے آئے۔ مراح باڑہ) اراح یریح اراحۃ (افعال) اونٹوں کو بوقت شام باڑہ میں لانا۔ تریحون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم شام کو چوپایوں کو باڑے میں واپس لے آتے ہو۔ تسرحون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم صبح کے وقت چرانے لے جاتے ہو۔ سرح سے السرح ایک قسم کا پھل دار درخت ہے اس کا واحد سرحۃ ہے درحت الامل کے اصل معنی تو اونٹ کو (سرح) درخت چرانے کے ہیں بعد میں چراگاہ میں چرنے کے لئے کھلا چھوڑ دینے پر اس کا استعمال ہونے لگا۔ حین تسرحون۔ جب تم صبح کو جنگل میں (چوپایوں کو) چرانے کے لئے لے جاتے ہو۔ سارح اونٹوں کو چرانے والا چرواہا۔ آیت ہذا میں چوپایوں کو شام کے وقت واپس لانے کو پہلے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اس وقت وہ سیر شکم ہونے کے باعث زیادہ بارونق دکھائی دیتے ہیں۔
Top