Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں
(23: 97) ھمزات الشیاطین۔ جمع مجرور مضاف الشیطن مضاف الیہ۔ ھمز واحد۔ شیطانی وسوسے ۔ خطرات نفسانی۔ وہ برے خیالات جو شیطان دل کے اندر چبھوتا ہے۔ ھمز بمعنی چبھونا۔ ھمز (نصر۔ ضرب) اس کے اصل معنی کسی چیز کو دبا کر نچوڑنے کے ہیں۔ چناچہ محاورہ ہے کہ ھمزت الشیء فی کفی۔ میں نے فلاں چیز کو اپنی ہتھیلی میں دبا کر نچوڑا۔ اور اس کے معنی غیبت کرنے کے بھی آتے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے ھماز مشاء بنمیم۔ (68:11) طعن آمیز اشارتیں کرنے والا۔ چغلیاں لئے پھرنے والا۔ ھماز مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بڑا عیب گو۔ بہت طعن کرنے والا۔ سوار کے جوتے کی ایڑھی پر جو لوہا نکلا ہوتا ہے اور اس سے گھوڑے کے پہلو پر مارتا ہے اسے مہماز۔ مھمز۔ مھمیزکہتے ہیں۔
Top