Anwar-ul-Bayan - Al-Qasas : 9
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ
وَقَالَتِ : اور کہا امْرَاَتُ : بیوی فِرْعَوْنَ : فرعون قُرَّةُ : ٹھنڈک عَيْنٍ لِّيْ : میری آنکھوں کے لیے وَلَكَ : اور تیرے لیے لَا تَقْتُلُوْهُ : تو قتل نہ کر اسے عَسٰٓى : شاید اَنْ يَّنْفَعَنَآ : کہ نفع پہنچائے ہمیں اَوْ نَتَّخِذَهٗ : یا ہم بنالیں اسے وَلَدًا : بیٹا وَّهُمْ : اور وہ لَا يَشْعُرُوْنَ : (حقیقت حال) نہیں جانتے تھے
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا شاید کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں اور وہ (انجام سے) بیخبر تھے
(28:9) قرت عین لی ولک : ای ھو قرۃ عین کائنۃ لی ولک ھو مبتدا محذوف قرت عین مضاف مضاف الیہ مل کر خبر کائنۃ لی ولک متعلق خبر۔ یہ بچہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لئے اور تیرے لئے۔ لا تقتلوہ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ یہ خطاب فرعون سے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لئے لایا گیا ہے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بسوئے موسیٰ (علیہ السلام) ۔ وہم لا یشعرون ۔ : ولدا پر فرعون کی بیوی کا خطاب ختم ہوا۔ وہم لا یشعرون جملہ حالیہ ہے عبارت ماقبل پر۔ ای فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا وقالت امراتہ کیت وکیت ۔۔ وہم لا یشعرون بانھم علی خطاء عظیم فیما صنعوا۔ فرعون کے لوگوں نے اس کو دریا سے نکال لیا۔ اپنا دشمن بننے کے لئے اور باعث حزن ہونے کے لئے اور فرعون کی عورت نے کہا قرت عین ۔۔ ولد۔ اور حال یہ تھا کہ اس دوران انہیں کچھ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ ایک خطاء عظیم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
Top