Tafseer-e-Majidi - Al-Ankaboot : 44
وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ
وَلَا تُجَادِلُوْٓا : اور تم نہ جھگڑو اَهْلَ الْكِتٰبِ : اہل کتاب اِلَّا : مگر بِالَّتِيْ : اس طریقہ سے جو ھِىَ اَحْسَنُ ڰ : وہ بہتر اِلَّا : بجز الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا : جن لوگوں نے ظلم کیا مِنْهُمْ : ان (میں) سے وَقُوْلُوْٓا : اور تم کہو اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ : ہم ایمان لائے اس پر جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا اِلَيْنَا : ہماری طرف وَاُنْزِلَ : اور نازل کیا گیا اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف وَاِلٰهُنَا : اور ہمارا معبود وَاِلٰهُكُمْ : اور تمہارا معبود وَاحِدٌ : ایک وَّنَحْنُ : اور ہم لَهٗ : اس کے مُسْلِمُوْنَ : فرمانبردار (جمع)
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے (بالکل) ٹھیک طور پر، اسی میں (بھی بڑی) دلیل ہے ایمان والوں کے لیے،51۔
51۔ (ایسے خالق وصانع کے معبود واحد ہونے کی) (آیت) ” بالحق “۔ اس خلق کائنات سے بھی اسے مقصود احقاق حق ہی رہا ہے۔ اور لوگوں کو اپنی ذات وصفات کمال کی طرف توجہ دلانا۔ اے محقا غیر قاصد بہ باطلا فان المقصود بالذات من خلقھا افادۃ الخیر والدلالۃ علی ذاتہ وصفاتہ (بیضاوی) اے محقا مراعیا للحکم والمصالح (روح)
Top