Anwar-ul-Bayan - Al-Waaqia : 51
اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا١ؕ فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ
اَمْ اَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم کو مَّنْ فِي السَّمَآءِ : اس سے جو آسمان میں ہے اَنْ يُّرْسِلَ : کہ وہ بھیجے عَلَيْكُمْ : تم پر حَاصِبًا : پتھروں کی بارش فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لو گے كَيْفَ نَذِيْرِ : کیسے تھا ڈراؤ میرا
کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے نڈر ہو کہ تم پر کنکر بھری ہوا چھوڑ دے سو تم عنقریب جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہے
(67:17) ام امنتم میں ام بمعنی ہل استفہامیہ ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی نہیں ہونا چاہیے۔ امنتم : ماضی جمع مذکر حاضر امن (باب سمع) مصدر (ملاحظہ ہو 67:16 متذکرۃ الصدر) یرسل : مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب ارسال (افعال) مصدر وہ بھیجے، وہ بھیج دے۔ خاصبا : (منصوب بوجہ مفعول فعل یرسل کا) حصب (باب ضرب ونصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ کنکریاں اڑانے والی تیز ہوا۔ باد سنگ بار۔ سخت آندھی، حصبا کنکریاں ۔ حصب کنکر۔ ایندھن ۔ جیسے انکم وما تعبدون من دون اللہ حسب جھنم (21:98) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ فستعلمون :عاطفہ س مضارع پر داخل ہوکر اس کو خالص مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ اس کا عطف کلام سابق کے مضمون پر ہے یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں اور جب تم کود عذاب کو دیکھ لوگے تو تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ کیف نذیر : کیف حرف استفہام ہے بمعنی کیسا، کس طرح، کیونکر۔ نذیر اصل میں نذیری تھا۔ (مضاف مضاف الیہ) ی ضمیر واحد متکلم ساقط ہوگئی۔ کسرہ ی کے حذف ہوجانے کی دلیل ہے۔ میرا ڈرانا۔ نذیر یہاں بطور مصدر مستعمل ہے بمعنی انذار۔
Top